اسرائیلی حکام نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پام سنڈے کے موقع پر لاطینی کارڈینل کو مقدس چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا –
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاطینی کارڈینل پیئر باتیستا پیزابالا پام سنڈے کی خصوصی عبادت میں شرکت کے لیے ہولی چرچ جا رہے تھے کہ اسرائیلی پولیس نے انہیں راستے میں روک لیا،ان کے ہمراہ کیتھولک چرچ کے سرپرست پادری فراسسکو لیلپو کو بھی چرچ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس واقعے پر کیتھولک چرچ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے صدیوں میں پہلی بار پیش آنے والا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ مذہبی قیادت کو عبادت سے روکنا اربوں مسیحیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
ادھر اٹلی نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ ایمانوئل میکرون نے بھی مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کو بلا رکاوٹ عبادات کی آزادی دی جائے۔
