Baaghi TV

پانی گھروں میں، سوال ایوانوں میں،تحریر: زینب جہانزیب

بارش تو ہر سال ہوتی ہے، مگر ہر سال صرف غریب ہی کیوں ڈوبتا ہے؟
یہ سوال شاید بارش سے زیادہ ہمارے نظام سے پوچھا جانا چاہیے۔ کیونکہ پانی کا برسنا قدرت کے اختیار میں ہے، مگر پانی کے بعد تباہی کتنی ہوگی، کون بے گھر ہوگا، کس کی دکان بہے گی، کس کی فصل برباد ہوگی اور کس کی گود ، اجڑے گی یہ سب کچھ صرف قدرت کے فیصلے نہیں ہوتے۔ ان میں کہیں نہ کہیں ہماری منصوبہ بندی، ہماری ترجیحات اور ہماری بے حسی بھی شامل ہوتی ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمیں ہر سال پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ بارشیں آئیں گی۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ علاقے پانی میں گھر جائیں گے، کچھ بستیاں نکاسیٔ آب کے ناقص نظام کی سزا بھگتیں گی، کچھ کچے گھر پہلی ہی تیز بارش کے سامنے کمزور پڑ جائیں گے، اور کچھ خاندان اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی چند گھنٹوں میں کھو بیٹھیں گے۔
پھر بھی ہم ہر بار حیران ہوتے ہیں۔
ہر سال سیلاب آتا ہے، ہر سال غریب کا گھر اجڑتا ہے، ہر سال اس کی زندگی کا ایک حصہ پانی میں بہہ جاتا ہے، اور ہر سال ہم چند دن کے افسوس کے بعد اس سانحے کو بھول جاتے ہیں۔ جیسے غریب کا نقصان کوئی مستقل مسئلہ نہیں، صرف ایک موسمی خبر ہو۔
مگر سوال یہ ہے کہ جب مصیبت ہر سال متوقع ہو تو اس کے لیے تیاری نہ کرنا کیا صرف غفلت ہے، یا کسی کی زندگی کو غیر اہم سمجھنے کا نام بھی ہے؟

غریب کو ہم ہمیشہ مصیبت کے بعد یاد کرتے ہیں۔ جب اس کا گھر ڈوب جائے تو امداد لے کر پہنچ جاتے ہیں، جب اس کی دکان بہہ جائے تو ہمدردی کے دو جملے کہہ دیتے ہیں، جب اس کی فصل تباہ ہو جائے تو افسوس کر لیتے ہیں، اور جب وہ اپنی زندگی ہار جائے تو چند دن کے لیے ہماری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
لیکن کبھی ہم نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ اسے ہر سال بچانے کے لیے پہلے سے کیا کیا گیا تھا؟
کیونکہ غریب کو صرف زندہ بچا لینا کافی نہیں۔ اسے اس خوف سے بھی آزاد کرنا ضروری ہے کہ اگلی بارش اس کے گھر کی دیواریں، اس کی محنت اور اس کے بچوں کا مستقبل اپنے ساتھ نہ بہا لے جائے۔
بارش قدرت ہے، مگر تباہی کا ایک بڑا حصہ انتظام کا سوال ہے۔
اگر ہمیں معلوم ہے کہ کون سے علاقے ہر سال ڈوبتے ہیں تو وہاں مستقل منصوبہ بندی کیوں نہیں؟ اگر معلوم ہے کہ کہاں نکاسیٔ آب کا نظام ناکام ہے تو اسے درست کرنے کے لیے اگلی بارش کا انتظار کیوں؟ اگر معلوم ہے کہ کون سی بستیاں خطرے میں ہیں تو وہاں رہنے والے لوگوں کو محفوظ متبادل کیوں نہیں دیا جاتا؟
اور یہاں ایک سوال حکومت سے بھی بنتا ہے۔ آخر منصوبہ بندی صرف اس وقت کیوں یاد آتی ہے جب پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہوتا ہے؟

بجٹ بن جاتے ہیں، منصوبے بنتے ہیں، فائلیں چلتی ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، اعلانات ہوتے ہیں، افتتاحی تختیاں لگتی ہیں، تصویریں بنتی ہیں، مگر جب پہلی موسلا دھار بارش آتی ہے تو انہی منصوبوں کی اصل حقیقت پانی کے ساتھ بہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تب ہمیں یاد آتا ہے کہ فلاں نالہ صاف نہیں ہوا، فلاں بند کمزور ہے، فلاں آبادی خطرے میں ہے اور فلاں علاقے میں نکاسیٔ آب کا نظام برسوں سے ناکافی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب ہمیں پانی آنے سے پہلے کیوں یاد نہیں آتا؟
اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کے لیے شاید ایک سڑک کا ٹوٹنا ایک انتظامی مسئلہ ہو، مگر غریب کے لیے وہی ٹوٹی ہوئی سڑک گھر تک پہنچنے کا واحد راستہ ہوتی ہے۔ کسی نالے کی صفائی میں تاخیر شاید کسی دفتر کی فائل پر چند دن کا معاملہ ہو، مگر اسی تاخیر کی قیمت کسی کے گھر کا سامان، کسی کی دکان، کسی کی فصل یا کبھی کسی کی جان بن سکتی ہے۔
حکومتیں صرف اقتدار سنبھالنے کے لیے نہیں ہوتیں؛ وہ لوگوں کی زندگیوں کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر ہر سال وہی علاقے ڈوب رہے ہیں، وہی لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، وہی سوال اٹھ رہے ہیں اور ہر سال وہی وعدے دہرائے جا رہے ہیں تو پھر ہمیں یہ پوچھنے کا حق ہے کہ آخر پچھلے سال کی تباہی سے سیکھا کیا گیا؟

کیا حکومتوں کی یادداشت بھی صرف پانچ سال کی ہوتی ہے؟ یا پھر غریب کا دکھ اتنا معمولی ہے کہ اسے کسی مستقل منصوبے میں جگہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی؟
ہم ہر سال نقصان کا حساب لگاتے ہیں، مگر کبھی یہ حساب کیوں نہیں لگاتے کہ ہم نے اس نقصان کو روکنے کے لیے پچھلے سال سے اب تک کیا کیا؟ شاید اس لیے کہ اعداد و شمار میں غریب صرف ایک عدد ہوتا ہے۔ ایک گھر ٹوٹنے کو ایک نقصان، ایک دکان بہنے کو ایک نقصان، ایک فصل تباہ ہونے کو ایک نقصان اور ایک انسان کے مرنے کو ایک جانی نقصان لکھ کر فائل بند کر دی جاتی ہے، مگر جس کے لیے یہ "ایک” ہے، اس کے لیے وہ پوری دنیا ہوتی ہے۔ وہ گھر صرف اینٹیں اور چھت نہیں تھا؛ اس میں اس کی عمر بھر کی محنت تھی۔ وہ دکان صرف چند فٹ کی جگہ نہیں تھی؛ اس کے بچوں کی فیس، گھر کا راشن اور آنے والے کل کی امید تھی۔ وہ فصل صرف زمین پر کھڑی فصل نہیں تھی؛ وہ پورے خاندان کے کئی مہینوں کا خواب تھی، اور وہ انسان جسے ایک عدد لکھ کر آگے بڑھ جایا جاتا ہے، کسی کے لیے باپ تھا، کسی کے لیے بیٹا، کسی کے لیے شوہر اور کسی کے لیے پوری زندگی کا سہارا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور انسان کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ریاست اگر صرف نقصان گن لے تو وہ اعداد دیکھ رہی ہے؛ اگر وہ نقصان ہونے سے پہلے اسے روکنے کی کوشش کرے تو وہ انسان دیکھ رہی ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں کیا بننا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر سال غریب کے ڈوبنے کے بعد ہم اس کے لیے دعائیں کریں، یا ایسا معاشرہ جہاں ہم اس کے ڈوبنے سے پہلے اس کے لیے راستہ بنائیں؟
اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو بھی شاید یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ کرسی اختیار کا نام ضرور ہے، مگر اختیار جواب دہی سے آزاد نہیں ہوتا۔ عوام کا پیسہ صرف منصوبوں کے اعلان کے لیے نہیں، ان منصوبوں کے نتیجے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اگر ہر سال وہی تباہی لوٹ کر آتی ہے تو صرف موسم ذمہ دار نہیں ہوتا؛ کہیں نہ کہیں فیصلوں کی میز پر بھی کوئی سوال ادھورا رہ جاتا ہے۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بارش کتنی ہوئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو ہر سال بارش کا انتظار بھی کرتا ہے اور ہر سال سیلاب سے حیران بھی ہوتا ہے، وہ آخر کب اپنی یادداشت کو منصوبہ بندی میں تبدیل کرے گا؟
اور آخر کب ہم یہ مانیں گے کہ غریب کی جان اور اس کا نقصان اس لیے سستا نہیں ہو جاتا کہ وہ غریب ہے؟
کیا واقعی اس ملک میں غریب ہونا ایک جرم ہے، یا اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی انسان کی آنکھوں سے غریب دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے؟

More posts