Baaghi TV

زندگی آخر ہے کیا؟تحریر: عائشہ گُل

زندگی! وقت سبک رفتاری سے گزر رہا ہے۔جہاں خبر پڑھتے ہی دل بیٹھ جاتا۔ جہاں ماں بچے کو اسکول بھیج کر سو بار دعا کرے، اور پھر بھی واپسی کی کوئی گارنٹی نہ ہو۔ یہ سوال آج ہر گھر کی دیواروں سے ٹکراتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پمز ہسپتال کا سانحہ ہوا۔ وہ جگہ جہاں زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے وہاں موت نے ڈیرے ڈال لیے۔جہاں زندگی کی آخری سانس تک انسان کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہاں پر معصوم بچوں کے جنازے اٹھے۔۔ہم کس نظام میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہسپتال بھی محفوظ نہیں رہے؟

پھر چار سالہ آیت نور کا واقعہ سامنے آیا۔ ایک نام جو اب صرف خبر نہیں رہا۔ ایک سوال بن گیا ہے۔ اس معصوم کلی کے ساتھ جو درندگی ہوئی اس نے ہر باضمیر انسان کا سر شرم سے جھکا دیا۔ اس کے بعد ڈیڑھ سالہ ایزل۔ جس نے دنیا ابھی دیکھی بھی نہ تھی۔ جس کی زبان سے ابھی ماں کا لفظ بھی پورا نہ نکلا تھا۔ اسے بھی وحشت نے نہ بخشا۔ کبھی ڈیڑھ سالہ کبھی چار سالہ۔ کبھی جوان کبھی بوڑھی۔ بنت حوا آج ہر عمر میں غیر محفوظ ہے۔ ہر خبر کے ساتھ دل پر ایک اور بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

جب ہر طرف خوف حراس اور وحشت ہو تو انسان خود سے پوچھتا ہے کیا یہی زندگی ہے؟ کیا ہم نے اسی معاشرے میں جینا ہے؟ کل کی گارنٹی نہیں ۔ لیکن جتنے دن ملے ہیں کیا وہ بھی کانپتے ہاتھوں اور سہمی نظروں کے ساتھ گزاریں؟ کیا ہر گلی ،ہر ہسپتال، ہر گھر، اب خطرے کی زد میں ہے؟ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے۔ اپنے پیٹ کی فکر ہر کوئی کرتا ہے۔ اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے۔ جب اپنا دکھ بھلا کر دوسرے کا زخم سیا جائے۔ جب کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کی حفاظت کی جائے۔ یہی زندگی کا اصل معیار ہے۔

زندگی لفظ بظاہر بہت چھوٹا ہے ۔مگر زخم گہرے ہیں۔ انسان گرتا ہے ،ٹوٹتا ہے، پھر خود کو سمیٹ کر اٹھتا ہے۔ لیکن ایک دن ایسا آتا ہے جب سانسوں کی مالا ٹوٹ جاتی ہے۔ اس دن کے بعد نہ گرنا باقی رہتا ہے، نہ اٹھنا۔ نہ معافی نہ مرہم نہ واپسی۔ یہ سوچ ہی روح کو ہلا دیتی ہے۔

لیکن اس اندھیرے میں بھی چراغ جل رہے ہیں۔ اسی معاشرے میں وہ لوگ موجود ہیں جو لاشوں پر سیاست نہیں کرتے بلکہ زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ وہ وکیل ہیں جو آیت نور اور ایزل کے لیے عدالتوں میں آواز بنتے ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہیں جو پمز جیسے سانحے کے بعد بھی مریض کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔ وہ اساتذہ ہیں جو بچوں کو صرف پڑھاتے نہیں بلکہ حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ وہ عام شہری ہیں جو سوشل میڈیا پر صرف افسوس نہیں کرتے سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ اگر سب ختم ہو جاتا تو یہ درد بھی نہ ہوتا۔ درد اس لیے ہے کہ ابھی ضمیر زندہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی کچھ انسانیت باقی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم آگے کیا کریں؟ خاموشی سب سے بڑا ظلم ہے۔ ہمیں بچوں کو صرف ڈرانا نہیں حوصلہ بھی دینا ہے۔ انہیں بتانا ہے کہ دنیا میں برے لوگ ہیں لیکن اچھے لوگ بھی ہیں۔ ہمیں نظام سے سوال کرنا ہے اور خود سے عہد بھی۔ کہ ہم اپنی گلی اپنا محلہ اپنا ادارہ محفوظ بنائیں گے۔ کہ ہم ہر آیت نور اور ایزل کے لیے ڈھال بنیں گے۔ کہ ہم سکول میں ٹیچر سے پوچھیں گے سیکیورٹی کا کیا پلان ہے۔ کہ ہم ہسپتال میں انتظامیہ سے مطالبہ کریں گے مریضوں کی حفاظت کی کیا گارنٹی ہے۔ کہ ہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں سے کہیں گے انصاف فوری ہو۔ تاخیر کا مطلب ایک اور سانحہ ہے۔

ہمیں نفرت کے جواب میں محبت سے لڑنا ہوگا۔ وحشت کے جواب میں انسانیت سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا کہ طاقت کا مطلب دوسروں کو دبانا نہیں دوسروں کو سہارا دینا ہے۔ ہمیں میڈیا پر صرف ویڈیو شیئر نہیں کرنی۔ ہمیں زمین پر اتر کر کام کرنا ہے۔ کسی یتیم کی فیس دینی ہے۔ کسی زخمی کے گھر کھانا پہنچانا ہے۔ کسی گواہ کو حوصلہ دینا ہے کہ وہ سچ بولے۔ چھوٹے چھوٹے قدم ہی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔

یاد رکھیں! جب تک ایک شخص بھی دوسروں کے لیے جینے کو تیار ہے تب تک زندگی باقی ہے۔ جب تک کوئی ماں اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے تب تک امید باقی ہے۔ جب تک کوئی نوجوان یہ کہتا ہے کہ میں فرق لاؤں گا تب تک مستقبل باقی ہے۔ ہمیں ٹوٹنا نہیں ہے۔ ہمیں بکھرنا نہیں ہے۔ ہمیں جڑنا ہے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہوں گی۔ زندگی آزمائش کا نام ہے۔ یہ ہمیں توڑنے آتی ہے تاکہ ہم پہلے سے مضبوط بن کر اٹھیں۔ پمز کے بچے آیت نور ایزل ہمیں معاف نہیں کریں گے اگر ہم بھول گئے۔ لیکن وہ ہمیں دعا دیں گے اگر ہم نے ان کے نام پر نظام بدلا۔ اگر ہم نے ایک اور بچے کو محفوظ کیا۔ آئیے عہد کریں۔ کہ ہم ڈریں گے نہیں۔ کہ ہم چپ نہیں رہیں گے۔ کہ ہم اپنے حصے کی روشنی ضرور جلائیں گے۔ کیونکہ جب تک امید کا دیا جلتا رہے گا تب تک زندگی باقی رہے گی۔

More posts