کبھی کبھی کوئی سانحہ صرف چند گھروں کے چراغ نہیں بجھاتا بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں معصوم نومولود بچوں کے ساتھ پیش آنے والا دلخراش آتشزدگی کا واقعہ بھی ایسا ہی ایک سانحہ ہے، جس نے ہر حساس دل کو غمزدہ اور ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا ہے۔
وہ ننھی جانیں جنہوں نے ابھی دنیا میں آنکھ کھولی ہی تھی، جن کے والدین نے ان کے لیے خواب سجائے تھے، وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں۔ ان والدین کے دکھ اور کرب کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو زندہ دیکھنے کی امید میں ہسپتال کا رخ کیا اور واپس خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہوئے۔یہ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؟ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد معصوم جانوں کو بچانے کے لیے ہمارے حفاظتی نظام نے کیا کردار ادا کیا؟ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی جان اور اپنے پیاروں کی زندگی کے تحفظ کی امید لے کر جاتا ہے۔ خصوصاً نرسریاں انتہائی حساس مقامات ہوتی ہیں، جہاں ایسے نومولود موجود ہوتے ہیں جو اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتے۔ وہاں فائر الارم، آگ بجھانے کے مؤثر آلات، ایمرجنسی ایگزٹ، ہنگامی انخلا کے راستے اور تربیت یافتہ عملہ محض سہولیات نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان آخری حفاظتی حصار ہوتے ہیں۔
اس سانحے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حفاظتی انتظامات کس حالت میں تھے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبہ موجود تھا اور معصوم بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کیوں نہ کیے جا سکے۔اگر تحقیقات میں کسی بھی سطح پر غفلت، کوتاہی یا حفاظتی انتظامات میں لاپروائی ثابت ہو تو ذمہ داران کو قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ معصوم جانوں کا ضیاع صرف ایک فائل، ایک رپورٹ یا ایک خبر بن کر نہیں رہنا چاہیے۔اس سانحے کے بعد حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر کے ہسپتالوں، بالخصوص نرسریوں، بچوں کے وارڈز اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی نظام کا جامع معائنہ کرائے۔ جہاں خامیاں موجود ہیں انہیں فوری طور پر دور کیا جائے اور عملے کو باقاعدہ ہنگامی تربیت دی جائے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ احتیاط کسی سانحے کے بعد نہیں بلکہ سانحہ پیش آنے سے پہلے ضروری ہوتی ہے۔
آج ان معصوم بچوں کے والدین کے پاس صرف یادیں، آنسو اور دعائیں ہیں۔ دنیا شاید کچھ دن بعد اس سانحے کو بھول جائے، لیکن ایک ماں اور باپ کے دل میں اپنے بچے کی جدائی کا دکھ کبھی ختم نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ان معصوم جانوں کو اپنی رحمتِ کاملہ میں جگہ عطا فرمائے، ان کے والدین کو صبرِ جمیل دے اور ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی توفیق دے جہاں کسی ماں کی گود حفاظتی غفلت کے باعث خالی نہ ہو۔یہ صرف ایک حادثہ نہیں، ہمارے نظامِ تحفظ کے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے۔
