پاکستان کی تاریخ سانحوں سے بھری پڑی ہے، جہاں جرائم کی شرح روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی انہونا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قتل و غارت، چوریاں، ڈکیتیاں، راہ زنی کے واقعات، چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی، ظلم و ستم، جبر و تشدد معمول بن گئے ہیں۔ مذکورہ تمام واقعات ایک ایسی حقیقت کی نشان دہی کر رہے ہیں، جنھیں دیکھ کر ہر کوئی توبہ کا ورد کرتا ہے اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ معلوم نہیں زندگی کی شام کس گلی میں ہو جائے۔ ہمارے ارد گرد حالات و واقعات تواتر و تسلسل کے ساتھ کروٹ بدل رہے ہیں۔ ایک تسلسل کے ساتھ انسانیت کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کو گناہ کا کوڑھ لگ گیا ہے۔ یہاں کوئی غفلت کے مرض میں مبتلا ہے، کوئی بد نیتی کا شکار ہے، کوئی توہمات میں گرا ہوا ہے، کوئی احساسِ کمتری اور کوئی احساسِ برتری کے مرض میں مبتلا ہے، جب کہ کوئی ہراسانی کی تاک لگائے بیٹھا ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے جب کوئی معاشرہ احساس سے خالی، ذمہ داری سے غافل اور ایمان میں کم زور ہو جائے تو زندگی کا توازن غیر حقیقی ہونے لگتا ہے۔
اگر بچوں کے حوالے سے بات کی جائے تو سانحۂ لاہور کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ سانحۂ پمز ہسپتال، اسلام آباد نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نومولود ننھے منے پھول آگ میں جھلس کر مرجھا گئے۔ ان نومولود بچوں کی تعداد 14 بتائی جاتی ہے، جو کسی بھی شخص یا انتظامیہ کی غفلت کے باعث رحلت فرما گئے۔ یہ 12 ربیع الاول کا دن تھا، جس کی صبح سویرے پمز ہسپتال میں آتش زدگی کی خبر نے پوری قوم کو غم سے نڈھال کر دیا۔ اس خبر کے نشر ہوتے ہی ملک بھر میں کہرام مچ گیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر قومی میڈیا تک سانحۂ پمز ہسپتال، اسلام آباد پر نوحہ کناں تھا۔
حکومتی اراکین اپنی اپنی جگہ دلائل پیش کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان ماؤں کو دلاسہ بھی دے رہے تھے، جن کی گود اجڑ گئی تھی۔ مائیں واویلا کر رہی تھیں۔ وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال صاحب نے بھی پمز ہسپتال کے باہر پریس کانفرنس کی، جس نے کئی تلخ سوالات کو جنم دیا۔ والدین کی آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے۔ پریس کانفرنس میں خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا جا رہا تھا کہ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ذمہ دار عملے کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بچے جہانِ فانی سے کوچ کر گئے، وہ واپس نہیں آ سکتے۔ دنیا سے گیا ہوا انسان کبھی واپس نہیں آتا۔ یہ نظامِ قدرت ہے، اس کے ساتھ کون لڑ سکتا ہے؟ یہ دنیا فانی ہے، کسی کی جاگیر نہیں۔ یہاں بادشاہیاں، حکومتیں اور ریاستیں عروج و زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ زندہ صرف خدا کا نام رہتا ہے۔ اس نے ہمیں یہ دنیا عارضی طور پر دی ہے۔ یہ ہمارا مستقل ٹھکانا نہیں ہے، اس لیے اسے چھوڑنا ہے۔ خدا نے زندگی کے ساتھ موت کے تصور کو بھی واضح طور پر بیان کیا ہے، لیکن اس موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت کو کوئی عبور نہیں کر سکتا۔ ہماری عمر کی ایک معیاد ہے۔ ہم سب کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس حیاتِ جاوداں کو ایک دن چھوڑنا ہی ہے۔ معلوم نہیں وہ دن کون سا ہو گا؟
یہ دنیا سانحوں، آزمائشوں اور دکھوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ، حادثہ یا سانحہ وقوع پذیر ہوتا رہتا ہے۔ البتہ انسان اس وقت زیادہ کرب محسوس کرتا ہے، جب قومی سطح پر کوئی دل خراش سانحہ رونما ہوتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد میں پیش آنے والے اس سانحے نے ہر ماں کی آنکھ کو اشک بار کر دیا ہے۔ رلا کر رکھ دیا ہے، حوصلوں کو پست کیا ہے، بے دلی میں مبتلا کیا ہے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ حالاں کہ نرسری ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں بچوں کو تحفظ اور زندگی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ ایسی ہی جگہ میں آگ بھڑک اٹھے اور نومولود بچوں کے جسم و روح کو جلا کر رکھ دے تو پھر ہسپتالوں سے شفا کی کیسی امید کی جا سکتی ہے؟
ہسپتال کی ایک مکمل عمارت ہوتی ہے، جس میں بیک وقت مختلف شعبہ جات کام کرتے ہیں اور جو مریضوں کے علاج و معالجے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب مریض جس قدر ہسپتالوں میں بھر گئے ہیں، یہ ایک اَن گنت تعداد ہے۔ مختلف امراض ہیں اور ہر انسان کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ عام مرض سے لے کر کینسر تک، ہر بیماری انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ روح، جان اور جسم ہی زندگی ہیں؛ ان کا ہر قدم پر خیال کیجیے۔ زندگی ایسی حقیقت ہے جو لوٹ کر واپس نہیں آتی۔
یہ بچے تو کبھی واپس نہیں آئیں گے، البتہ یہ سانحہ تاریخ کا حصہ ضرور بن گیا ہے، جو ہماری توجہ مستقبل کی طرف مرکوز کرتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ایسے سانحات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانا، ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا اور انسانی جان کی قدر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یاد رکھیے! احتیاط زندگی ہے اور غفلت موت۔
