نرسری وارڈ سے اٹھتی چیخیں غفلت کی قیمت معصوم جانیں
اسلام آباد سے اٹھنے والا سوال جانیں بچانے والے ادارے خود کتنے محفوظ ہیں؟
پمز سے پنجاب تک ہسپتالوں کے حفاظتی نظام کا فوری آڈٹ ناگزیر
پمز سانحہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں، پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے
تجزیہ شہزاد قریشی
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی المناک ہلاکتوں نے پوری قوم کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ معصوم بچے جو ابھی دنیا میں آئے ہی تھے، چند لمحوں میں ہم سے جدا ہو گئے۔ یہ سانحہ صرف چند خاندانوں کا دکھ نہیں بلکہ پاکستان کے صحت کے نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ نرسری وارڈ میں لگی اور اس کے نتیجے میں کم از کم 14 نومولود جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حکومتی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک حادثہ تھا یا انتظامی نااہلی، غفلت اور کمزور حفاظتی نظام کا نتیجہ؟ اگر ایک ائیرکنڈیشنر یا برقی خرابی اتنی بڑی انسانی تباہی کا سبب بن سکتی ہے تو پھر ہسپتال کے فائر سیفٹی سسٹم، ایمرجنسی رسپانس، الارم سسٹم، فائر ایگزٹ اور عملے کی تربیت کہاں تھی؟ مختلف عینی شاہدین اور رپورٹس میں عملے کی عدم موجودگی، تاخیر سے ریسکیو اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ یہ معاملہ صرف پمز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ وفاق، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کا فوری حفاظتی آڈٹ ہونا چاہیے۔ خصوصاً نرسریوں، آئی سی یوز، آپریشن تھیٹروں اور آکسیجن سپلائی والے وارڈز کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر آج اسلام آباد میں یہ سانحہ پیش آیا ہے تو کل کسی دوسرے شہر میں بھی ایسا حادثہ ہو سکتا ہے، اگر نظام کی خامیاں دور نہ کی گئیں۔ UNICEF نے بھی اس واقعے کے بعد پورے ملک میں صحت کے مراکز کے حفاظتی معیارات کا فوری جائزہ لینے اور انہیں مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر سانحات کے بعد صرف انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، چند افسر معطل ہوتے ہیں، میڈیا کی توجہ ختم ہوتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔لیکن اس مرتبہ قوم یہ توقع رکھتی ہے کہ ذمہ داران کا تعین ہو، انہیں قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے اور پورے ملک کے ہسپتالوں میں حفاظتی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ یہ وقت سیاست کا نہیں، احتساب اور اصلاح کا ہے۔ ان معصوم بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی ہسپتالوں کے حفاظتی نظام، انتظامی ڈھانچے اور نگرانی کے طریقہ کار کو بہتر نہ بنایا گیا تو پھر ہم صرف ایک حادثے پر نہیں بلکہ ایک پورے ناکام نظام پر نوحہ لکھ رہے ہوں گے۔
