پشاور ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کیس کے سماعت کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ریمارکس دیے کہ پولیس کام کیوں نہیں کررہی؟، پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں، کارکردگی صفر ہے، کوئی اور راستہ نہیں کہ آئی جی پر ہی مقدمہ کریں۔
دوران سماعت وکیل نے بتایا کہ امین اکبر 11 مارچ کو لاپتہ ہوا، تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کو کہا کہ تفتیش مکمل کیوں نہیں ہوئی، آپ لوگ کام کیوں نہیں کرتے؟ اب عدالت سکھائے گی کہ تفتیش کیسے کی جاتی ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ 9 دن میں تفتیشی کو صرف سی ڈی آر ملی، آئی جی پر مقدمہ کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں، ایس ایچ او کو بندہ غائب ہونے کا پتہ نہیں، کیسے مان لوں؟، کام کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، عوام پر احسان نہیں۔
