کوئٹہ:بلوچستان میں سال 2025 کے دہشتگردی کے واقعات میں شہریوں اور فورسز کے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 827 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 745 دہشتگرد بھی مارے گئے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2025 کے دوران دہشتگردی کے 940 واقعات پیش آ ئے، جن میں 827 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق افراد میں 287 سکیورٹی اہلکار اور 440 شہری شامل ہیں،اسی طرح دہشتگردوں کے حملوں میں 1349 افراد زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں 6 خودکش حملے، متعدد فائرنگ اور بم دھماکے، آئی ای ڈی، دستی بم، راکٹ اور بارودی سرنگوں کے درجنوں حملے رپورٹ ہوئےدہشتگردی کے واقعے میں سوارب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی شہید ہوگئے، رواں سال سب سے زیادہ واقعات تربت 109، قلات 88، آواران 75، کوئٹہ میں 65، مستونگ 57 اور پنجگور میں 43 حملے رپورٹ ہوئے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے افغانستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں بم دھماکوں کے 265، دستی بم حملوں کے 213 واقعات، سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے کے 93 واقعات، ریلوے ٹریک پر 27حملے ہوئے اور متعدد بار جعفر ایکسپریس کو بھی نشانہ بنایا گیا، پولیو ٹیموں پر 3، موبائل ٹاورز پر 27 حملے کیے گئے2025 میں گیس پائپ لائن پر 8 حملے، آبادکاروں پر 27 واقعات ہوئے، رواں سال زیارت سے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر زیارت تاحال بازیاب نہیں ہو سکے، سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کے 78 ہزار آپریشنز میں 745 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نےپریس کانفرنس میں بتایا کہ 2025 میں پولیس نےبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تاہم پولیس کے محکمہ کو مزید وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، پولیس کی کیپسٹی بلڈنگ پر توجہ دی جارہی ہے، پولیس نے بہت سے مواقع پر بہترین رسپانس دیا ہے اور پولیس تھانوں پر ہونے والے حملوں کو نفری نے دلیر ی سے نا کام بنایا۔
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
آئی جی پولیس محمد طاہر نے کہا کہ پولیس میں میرٹ پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، ایس اوپیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور محکمہ پو لیس میں احتساب برانچ بنائی گئی ہے،اے ٹی ایف کے الاؤنس میں اضافہ کیا گیا ہے اور نفری میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے، پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے اور سیف سٹی کا منصوبہ آخری مرحلے میں ہےبلٹ پروف گاڑیاں پولیس کو فراہم کر دی گئی ہیں اور مزید بھی فراہم کی جائیں گی، عوام کی خدمت پر توجہ دے رہے ہیں اور کوئٹہ کی سیکیورٹی کے لیے پراپر پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
پاکستان کی یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت
