صدر مملکت آصف علی زرداری نے وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سیاست میں آوازیں آنا معمول کی بات ہے، اگر برداشت نہیں کر سکتے تو کوئی آسان کام کریں۔
زرداری نے کہا کہ کسانوں کی سہولت اور زرعی شعبے کی ترقی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے، لیکن تسلسل اور سوچ کی کمی ہے۔ ان کے مطابق قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے اور جدید زرعی طریقے فروغ دینے میں ہے، اور ملک کے معاشی چیلنجز کا واحد پائیدار حل زراعت ہے۔
صدر نے کہا کہ ججز کی تنخواہیں تین گنا کر دی گئی ہیں اور ہر کام سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔
زرداری نے سیاسی بلوغت اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کے حالات بہتر ہو رہے ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کام نہیں ہو رہا اور سیاسی ترجیحات درست نہیں ہیں۔
عمران خان کا نام لیے بغیر صدر زرداری نے کہا کہ ملک چار سال رک گیا تھا، اور وہ شخص ہر روز تقریر کرتا تھا، ہر ٹی وی پر اس کی آواز آتی تھی، لیکن اب ڈیڑھ سال میں آواز آنا شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے 14 سال قید کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تکالیف کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور اپنے بچوں سے ملاقات پر بھی روشنی ڈالی۔
سیاست میں ایسا ہوتا ہے، عمران خان کی آوازیں ڈیڑھ سال میں سنائی دینے لگیں، صدر مملکت
