Baaghi TV

وزیراعظم شہباز شریف سے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے صدر کی ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) کے صدر ڈاکٹر تاناکا آکیہیکو (Dr Tanaka Akihiko ) کی قیادت میں 9 رکنی وفد کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی.

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان جاپان اور جائیکا کے ساتھ سات دہائیوں پر محیط دیرینہ شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے. امید ہے کہ جائیکا کے صدر کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا. مشکل معاشی چیلنجز پر ٹیم ورک سے قابو پایا، اب پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے.حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں صرف تین برس میں سرکاری محصولات دگنی ہوئیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو ہنر، تکنیکی تربیت اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے. معدنیات کے شعبے کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں JICA کے تکنیکی تعاون کا خیرمقدم کرینگے. چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی اور فروغ کے لیے سمیڈا میں اصلاحات کر کے اسے ایک فعال اور مؤثر ادارے بنایا. جائیکا کا سمیڈا کے ساتھ تعاون چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کیلئے مفید ثابت ہو گا.

وزیراعظم نے صدر جائیکا سے جاپان میں حالیہ زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس بھی کیا. ڈاکٹر تاناکا آکیہیکو نے وزیر اعظم کی جانب سے جاپان میں زلزلے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا.

ڈاکٹر تاناکا نے پاکستان میں انکی شاندار مہمان نوازی پر بھی شکریہ ادا کیا. انہوں نے کہا کہ جائیکا اور پاکستان کی شراکت داری اور تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے. جائیکا صحت، تعلیم، شہری و دیہی ترقی، فنی و تکنیکی تربیت اور صنعتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان سے تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے. وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا. جاپان سمیت عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان اور اس کی قیادت کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے.

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، حنیف عباسی، سردار اویس احمد خان لغاری، شزا فاطمہ خواجہ، معاونین خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

More posts