Baaghi TV

شہزادہ ہیری کا ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل، اتحادی افواج کی قربانیوں کا دفاع

UK

افغانستان جنگ میں خدمات انجام دینے والے برطانوی شہزادہ ہیری نے نیٹو کے غیر امریکی فوجیوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت مگر باوقار ردِعمل دیا ہے۔

شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ افغانستان جنگ کے دوران برطانوی اور دیگر اتحادی افواج کی قربانیاں ایسی ہیں جنہیں “سچائی اور احترام” کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ تاثر دیا تھا کہ افغانستان جنگ کے دوران نیٹو کے غیر امریکی ممالک کے فوجی فرنٹ لائن پر جانے سے گریزاں رہے۔ اس بیان کے بعد برطانیہ میں شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سمیت متعدد سیاسی و عسکری حلقوں نے اس بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا۔شہزادہ ہیری، جو برطانوی فوج کی جانب سے افغانستان میں دو بار تعینات رہے، نے واضح کیا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا کی مدد کے لیے اس کے اتحادی ممالک نے فوری طور پر ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اتحادیوں نے مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور میدانِ جنگ میں شانہ بشانہ لڑے۔شہزادہ ہیری نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،“میں نے افغانستان میں خدمات انجام دیں، میں نے وہاں زندگی بھر کے دوست بنائے اور میں نے اپنے دوستوں کو کھویا بھی۔ صرف برطانیہ کے 457 فوجی اہلکار اس جنگ میں مارے گئے۔”انہوں نے زور دیا کہ ان قربانیوں کو سیاسی بیانات کی نذر نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں ایمانداری اور احترام کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ تمام اتحادی ممالک آج بھی سفارت کاری اور امن کے دفاع کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان جنگ نیٹو اتحاد کے لیے ایک اہم امتحان تھی، جس میں برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور دیگر ممالک نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان نہ صرف تاریخی حقائق کے برعکس ہے بلکہ اتحادی ممالک کے عوام اور فوجیوں کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے،کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز، اور سچ کہوں تو، انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں، انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں شدید دکھ اور تکلیف کا احساس پیدا ہوا،برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر اسٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا،اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا،

خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تھا کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا،ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور، نیٹو کی جانب سے باہمی دفاع کی شق صرف ایک بار استعمال کی گئی، جو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد عمل میں آئی، جب رکن ممالک نے افغانستان میں ہزاروں فوجی تعینات کیے۔ تاہم ان کے بقول اتحادی ممالک کی شمولیت محدود نوعیت کی تھی، وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔

عد ازاں جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ شاید ہمیں نیٹو کو آزمانا چاہیے تھا، آرٹیکل 5 نافذ کرتے اور نیٹو کو مجبور کرتے کہ وہ یہاں آ کر ہماری جنوبی سرحد کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی مزید دراندازی سے بچاتا، تاکہ بڑی تعداد میں بارڈر پٹرول اہلکار دیگر ذمہ داریوں کے لیے دستیاب ہوتے،

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 486 نیٹو فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 2 ہزار 461 امریکی فوجی تھے۔ اس جنگ میں 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 2 ہزار دیگر فوجی اور شہری اہلکار زخمی ہوئے۔

More posts