لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے معروف تعلیمی ادارے KIPS ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 122/26 تھانہ جوہر ٹاؤن ضلع لاہور میں درج کیا گیا، جس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ 21 جنوری 2026 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کی گئی۔ واقعہ کی اطلاع KIPS کے ڈائریکٹر فنانس طاہر وزیر خان نے پولیس کو دی، جو مغوی عابد وزیر خان کے حقیقی بھائی بھی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عابد وزیر خان 21 جنوری کو شام 6 بج کر 34 منٹ پر KIPS کے کارپوریٹ آفس واقع 1.5/D مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن سے اپنی سفید رنگ کی ٹویوٹا کیمری (نمبر 534/18 LEF) خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ادارے کی جنرل منیجر اسکولز میڈم لبنیٰ کو فون کیا۔دورانِ فون کال میڈم لبنیٰ نے بتایا کہ گاڑی کے شیشے پر زور سے دستک کی آواز آئی اور ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دی جس نے کہا کہ "تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کر دیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد فون کال منقطع ہو گئی اور دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بھائی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے منصوبہ بندی کے تحت انہیں اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغوی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔پولیس کے مطابق یہ مقدمہ اے ایس آئی ارشد اقبال کی جانب سے درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ (INV) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے اطراف نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔
درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لاہور پولیس کے اعلی افسران تفتیش میں لگ گئے،لاہور پولیس نے اعلی افسران نے سیف سٹی میں کیمروں کی نگرانی شروع کردی،چار ایس پیز کی نگرانی میں مغوی کی تلاش کیلئے ٹیمیں متحرک ہییں
