اسلام آباد: ڈیجیٹل دور میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات نے ہر صارف کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آن لائن فراڈ، ہیکنگ، مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال جیسے جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ماہرین صارفین کو اپنی ڈیوائسز اور ڈیجیٹل معلومات کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی سائبر جرائم کے مختلف واقعات سامنے آ رہے ہیں، جہاں دھوکے باز جعلی لنکس، فشنگ پیغامات، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مختلف آن لائن طریقوں سے شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے یا ان کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون یا دیگر ڈیوائس گم ہونے یا چوری ہونے کی صورت میں بھی صارف کا نجی ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ڈیوائس منیجمنٹ سے متعلق ایسی سہولیات متعارف کرائی ہیں جن کے ذریعے صارف نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اہلِ خانہ کی ڈیوائسز کی حفاظت بھی بہتر انداز میں کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر صارف کو چاہیے کہ وہ اپنی تصاویر، ضروری دستاویزات، رابطہ نمبرز اور دیگر اہم معلومات کا باقاعدگی سے محفوظ کلاؤڈ اسٹوریج یا کسی بیرونی اسٹوریج ڈیوائس پر بیک اپ رکھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی ڈیٹا ضائع نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر اسمارٹ ڈیوائسز کو ہمیشہ جدید ترین سیکیورٹی پیچز اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے اپ ڈیٹ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ نئی اپ ڈیٹس اکثر سیکیورٹی خامیوں کو دور کرتی ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین مضبوط پاس ورڈز استعمال کرنے اور فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت جیسے بائیومیٹرک لاک فعال رکھنے کی بھی سفارش کرتے ہیں تاکہ غیر متعلقہ افراد ڈیوائس تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔
مزید برآں، اگر موبائل فون گم یا چوری ہو جائے تو اسے تلاش کرنے یا دور سے لاک کرنے کے لیے Find My iPhone یا Find My Deviceجیسی لوکیشن ٹریکنگ سروسز کو پہلے سے فعال رکھنا مفید ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چند آسان احتیاطی اقدامات اختیار کر کے نہ صرف ذاتی معلومات بلکہ پورے خاندان کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو بھی مؤثر انداز میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
سائبر کرائم سے بچاؤ: صرف ایک کلک سے اپنی اور اپنے خاندان کی ڈیوائسز محفوظ بنائیں
