Baaghi TV


ایران جوہری پروگرام ترک کرے، تب ہی پابندیاں ختم ہوں گی، فرانس

‎پیرس: فرانس نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام پر اپنا سخت مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک تہران اپنے جوہری پروگرام سے مکمل اور قابلِ تصدیق دستبرداری اختیار نہیں کرتا، اس وقت تک اس پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔
‎فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے ہوں گے، بصورت دیگر اقوام متحدہ کے تحت عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی اولین ترجیح خطے میں امن، استحکام اور جوہری عدم پھیلاؤ کو یقینی بنانا ہے، اس لیے ایران کو اپنے وعدوں پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کی قابلِ اطمینان اور جامع شرائط طے ہونے تک پابندیاں ختم کرنے یا ان میں نرمی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ فرانس کا مؤقف ہے کہ مذاکرات اسی وقت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کے ساتھ عملی اقدامات اور قابلِ اعتماد ضمانتیں بھی موجود ہوں۔
‎فرانسیسی وزیر خارجہ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب گزشتہ ماہ فرانس نے ایران کے جوہری معاملے پر جاری تعطل ختم کرنے اور سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ تاہم تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پیرس مذاکرات کی حمایت کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی مؤقف پر بھی قائم ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق فرانس کا یہ مؤقف مغربی ممالک کی اس مشترکہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مکمل شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
‎واضح رہے کہ فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور ویٹو پاور رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے ایران کے حوالے سے اس کے مؤقف کو عالمی سفارتی سطح پر خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس کے حالیہ بیان کو آئندہ سفارتی پیش رفت اور جوہری مذاکرات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

More posts