راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے آنے والے پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، جس کے باعث وہ مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی رہنما مقررہ شیڈول کے تحت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے، تاہم ملاقات کا وقت ختم ہونے تک انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کے مقررہ اوقات کے بعد ملاقات کا عمل ممکن نہ بنایا جا سکا، جس کے نتیجے میں تمام رہنماؤں کو بغیر ملاقات واپس جانا پڑا۔
ملاقات کے لیے جیل پہنچنے والوں میں رکن قومی اسمبلی میاں فیاض حسین، حسن جویا، قاضی عمران اور راجہ عثمان غضنفر شامل تھے۔ یہ تمام رہنما بانی پی ٹی آئی سے اہم سیاسی اور تنظیمی امور پر مشاورت کے لیے ملاقات کے خواہاں تھے۔ تاہم طے شدہ وقت گزر جانے کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے لیے نامزد رہنماؤں کی فہرست میں جام امان اللہ کا نام بھی شامل تھا لیکن وہ جیل نہیں پہنچ سکے۔ دیگر رہنماؤں نے کافی دیر تک انتظار کیا مگر ملاقات کے انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث انہیں واپس جانا پڑا۔
دوسری جانب پارٹی رہنماؤں کی واپسی کے بعد سیاسی حلقوں میں ملاقات نہ ہونے کی وجوہات پر مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے انتظامی وجوہات کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ مبصرین اس معاملے کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
تاہم اس معاملے پر جیل انتظامیہ یا متعلقہ سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے ملاقات نہ ہونے کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں موجودہ سیاسی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ پارٹی کی حکمت عملی، تنظیمی معاملات اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں کے حوالے سے ایسی ملاقاتوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آئندہ دنوں میں اس ملاقات کے لیے دوبارہ وقت مقرر کیا جاتا ہے یا نہیں۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ ہو سکی
