Baaghi TV

پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم، 11 ارب روپے کے قرضے جاری

tax

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ہزاروں خاندانوں کا اپنے گھر کا خواب حقیقت میں تبدیل ہو سکے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ نہ صرف عوام کو رہائش کی سہولت فراہم کرے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی توانائی دے گا۔
‎وزیراعظم کی زیر صدارت پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں منصوبے کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو اسکیم کی کارکردگی اور قرضوں کی فراہمی کے عمل پر بریفنگ دی گئی۔
‎شہباز شریف نے کہا کہ اپنا گھر اسکیم کی کامیابی سے تعمیراتی شعبے میں نمایاں تیزی آئے گی، جس سے اس صنعت سے وابستہ درجنوں دیگر شعبے بھی ترقی کریں گے۔ ان کے مطابق تعمیرات کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
‎وزیراعظم نے وزارت ہاؤسنگ اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے لیے اسکیم کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر درخواست فارم کو سادہ اور عام شہری کی سمجھ کے مطابق بنانے پر زور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
‎اجلاس میں وزیراعظم نے بینکوں کو ہدایت کی کہ درست درخواستوں کی منظوری کا عمل مزید تیز کیا جائے اور ملک بھر میں اس منصوبے کے بارے میں آگاہی مہم کو وسعت دی جائے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ضلعی سطح پر سہولت ڈیسک قائم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ درخواست گزاروں کو رہنمائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔
‎بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اب تک اپنا گھر اسکیم کے تحت 11 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر سے 67 ہزار 900 افراد نے اسکیم میں شرکت کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں جبکہ 16 ہزار 587 درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
‎حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ 3 ہزار 146 افراد کو قرضوں کی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو پابند بنایا ہے کہ وہ درخواست فارم موصول ہونے کے بعد 15 دن کے اندر ان پر کارروائی مکمل کریں۔
‎اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ منصوبے کی شفاف نگرانی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے منصوبے کی کارکردگی کو مؤثر انداز میں مانیٹر کیا جا سکے گا۔

More posts