قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ قطر، پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاہم قطر خود امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست ثالثی میں شامل نہیں۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
ماجد الانصاری نے کہا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے شہری آبادی یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور اس سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق جاری کشیدگی کا کوئی فوجی حل نہیں اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کا کوئی فاتح نہیں ہوگا بلکہ تمام فریقین کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عالمی تجارتی گزرگاہ ہے جسے تمام ممالک کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح اس اہم سمندری راستے کو دوبارہ کھولنا ہے کیونکہ اس کی بندش سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر کے متعدد بحری جہاز اور تیل بردار جہاز تاحال آبنائے ہرمز عبور نہیں کر سکے، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے حل کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
ماجد الانصاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کی کامیابی کے لیے بین الاقوامی نگرانی ضروری ہوگی اور خطے کے تمام ممالک کو اس عمل کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے کسی بھی منصوبے کو آبنائے ہرمز سے متعلق شراکت دار ممالک کی منظوری حاصل ہونی چاہیے اور کسی قسم کی یکطرفہ شرائط یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
قطری ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور فوری سفارتی اقدامات کے بغیر خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
قطر کی پاکستان کی ثالثی کی حمایت، خطے میں کشیدگی پر تشویش
