Baaghi TV

ربیع الاول، ایک آمد جو آج بھی ہمارے اندر ہونی باقی ہے،تحریر: زینب جہانزیب

ربیع الاول آتا ہے تو شہر روشن ہو جاتے ہیں، گلیاں سج جاتی ہیں، درود کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، محفلیں آباد ہوتی ہیں اور دلوں میں ایک نسبت جاگ اٹھتی ہے۔ مگر کبھی کبھی دل کے کسی خاموش گوشے میں ایک سوال بھی جنم لیتا ہے: جس ہستی ﷺ کی آمد ہمارے لیے رحمت، ہدایت اور محبت کا پیغام لے کر آئی، کیا ہماری اپنی زندگی بھی اُس نسبت سے بدل رہی ہے؟

ہم ہر سال ربیع الاول کی آمد کو یاد کرتے ہیں، مگر کیا ہم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ اس یاد کا اصل مقصد کیا ہے؟ ایک تاریخ کو یاد کرنا، ایک عظیم ہستی کی ولادت کا تذکرہ کرنا، یا اُس نورِ ہدایت سے اپنے دل اور کردار کو جوڑنا جو انسان کو اُس کے اپنے اندھیروں سے نکالنے آیا؟ حضور اکرم ﷺ کی آمد صرف تاریخ کا ایک روشن باب نہیں تھی، بلکہ انسانی زندگی کے لیے ایک ایسا انقلاب تھی جس نے انسان کو اُس کے رب سے بھی جوڑا اور اُس کے جیسے دوسرے انسانوں کے حقوق بھی سمجھائے۔

آپ ﷺ نے انسان کو صرف یہ نہیں بتایا کہ خدا کو کیسے پکارنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ خدا کے بندوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے عبادت کو زندگی سے الگ نہیں کیا، بلکہ عبادت کو کردار بنایا، رحمت کو رویہ بنایا، سچائی کو شناخت بنایا اور محبت کو ذمہ داری بنا دیا۔ اسی لیے سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ صرف ماضی کو جاننا نہیں، بلکہ اپنے حال کو پرکھنا بھی ہے۔

ہم گھروں کو روشنیوں سے سجا لیتے ہیں، مگر کیا ہمارے دل میں کسی کے لیے نفرت کا اندھیرا باقی نہیں؟ ہم درود پڑھتے ہیں، مگر کیا ہماری زبان کسی دوسرے انسان کو زخمی نہیں کرتی؟ ہم محبتِ رسول ﷺ کا ذکر کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے معاملات میں اُس رحمت کی کوئی جھلک موجود ہے؟ ہم سیرت سنتے ہیں، مگر کیا ہماری عادتوں میں سیرت اترتی بھی ہے؟ شاید ربیع الاول کا سب سے گہرا سوال یہی ہے: کیا محمد ﷺ ہمارے لیے صرف ایک محبوب ہستی ہیں، یا ہماری زندگی کے لیے ایک راستہ بھی؟

کیونکہ محبت اگر زندگی میں اثر پیدا نہ کرے تو وہ صرف ایک دعویٰ رہ جاتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا حسن یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر نرمی پیدا کرے، اسے سچائی کی طرف لے جائے، اسے تکبر سے بچائے، اسے دوسروں کے لیے رحمت بنائے اور اسے اپنے کردار کا محاسبہ کرنے پر آمادہ کرے۔ آنکھ کا نم ہونا محبت کی ایک کیفیت ہے، مگر اُس کیفیت کے بعد دل کا بدل جانا محبت کی ایک گہری گواہی ہے۔

آپ ﷺ ایک ایسے معاشرے میں تشریف لائے جہاں طاقت کمزور پر غالب تھی، جہاں قبائلی عصبیت نے انسان کو انسان سے جدا کر رکھا تھا، جہاں انتقام کو عزت سمجھا جاتا تھا اور جہاں بہت سے کمزور طبقات اپنے بنیادی حقوق سے محروم تھے۔ آپ ﷺ نے رحمت، عدل، امانت، صبر، عفو اور حسنِ سلوک کے ذریعے انسانی زندگی کو ایک نئی سمت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے انسان کو اُس کی اصل قدر یاد دلائی اور بتایا کہ عظمت نسب، مال یا طاقت میں نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار میں ہے۔

اور شاید آج بھی ہمیں اُسی یاد کی ضرورت ہے۔

آج ہمارے پاس علم بہت ہے، مگر سکون کم۔ رابطے بہت ہیں، مگر تعلق کم۔ الفاظ بہت ہیں، مگر ان میں اخلاص کم۔ ہم دین اور سیرت پر گفتگو بہت کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی اپنے ہی کردار کو اُن تعلیمات کے سامنے رکھ کر دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ ربیع الاول شاید ہمیں اسی بھولی ہوئی نگاہ کی طرف واپس بلاتا ہے؛ اُس نگاہ کی طرف جو دوسروں کو پرکھنے سے پہلے اپنے دل کو دیکھتی ہے۔

تو پھر ربیع الاول ہم سے کیا چاہتا ہے؟ شاید یہ کہ ہم ایک لمحے کے لیے ظاہری رونقوں سے آگے بڑھ کر اپنے باطن میں اتریں اور خود سے پوچھیں کہ اُس ہستی ﷺ کی نسبت نے ہمارے اخلاق میں کیا پیدا کیا، ہمارے معاملات میں کیا بدلا، ہماری زبان کو کتنا نرم کیا، ہمارے دل کو کتنا وسیع کیا اور ہمارے رب سے تعلق کو کتنا مضبوط کیا۔

کیونکہ حضور اکرم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ صرف یہ جاننے کے لیے نہیں کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا اور کیا کیا؛ بلکہ اس لیے بھی ہے کہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ ہم اپنی زندگی میں اُن تعلیمات کی کتنی جگہ بنا رہے ہیں۔

شاید ربیع الاول کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم محبت کو صرف الفاظ میں نہ رکھیں، اسے اپنے کردار میں جگہ دیں؛ درود کو صرف زبان تک محدود نہ رکھیں، اس کی برکت کو اپنے اخلاق تک پہنچنے دیں؛ اور سیرت کو صرف کتاب کے صفحات پر نہ چھوڑیں، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں اُس کی روشنی تلاش کریں۔
پھر شاید ربیع الاول ہمارے لیے صرف ایک مہینہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک مسلسل یاد بن جائے گا—ایسی یاد جو ہمیں بار بار اپنے دل کی طرف لوٹائے گی اور خاموشی سے یہ احساس دلائے گی کہ محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوبصورت اثر یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے قریب ہوتے ہوئے اُس کے بندوں کے لیے بھی زیادہ رحمت، زیادہ نرمی اور زیادہ خیر کا سبب بننے لگے۔

More posts