بھارت کو نام نہاد ہندو ریاست بنانے کی دعویدار مودی حکومت نے اپنے مذہب کو بھی کرپشن کی نذر کر دیا ہے، جہاں رام مندر کرپشن کیس کے بعد بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے مندر میں بھی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئی ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کی رام مندر فراڈ پر مجرمانہ خاموشی کے بعد اتراکھنڈ میں ایوبیا کے ناتھ مندر میں بھی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے،بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اتراکھنڈ مندر کے فنڈز کو وی آئی پی مہمانوں کی میزبانی کے لیےاستعمال کیا جاتا ہےتحقیقات میں 60 ہزار روپے بی جے پی کی ریاستی سیکریٹری نیہا جوشی کے نام پر خرچ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، بی جے پی کی اعلیٰ قیادت رام مندر چوری کے معاملے کی ذمہ داری سے کیسے بچ سکتی ہے-
دوسری جانب بھارتی وزیر پریانک کھرگے نے رام مندر کیس پر آر ایس ایس سے سر عام معافی کا مطالبہ کر دیا ہے،علاوہ ازیں کمیونسٹ پارٹی کے ضلعی سیکریٹری سوریا کانت پانڈے کا بھی کہنا ہے کہ اگر آر ایس ایس ٹرسٹ کو لوٹ مار سے نہیں بچا سکی تو دوبارہ ان افراد کو شامل کرنا قابل اعتراض ہے۔
دی وائر کے مطابق رام مندر میں سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے بھی بدعنوانی کی جا رہی ہے، رام مندر عطیات چوری کے معاملے کے ایک ماہ بعد بھی مودی نے اب تک عوامی سطح پر کوئی بیان نہیں دیا بھارتی رکن صوبائی اسمبلی ساگریکا گھوش نے مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام مند ر کیس پر سخت تنقید کے باوجود مودی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلنا انتہائی تشویشناک ہے۔
