انسانی رشتے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں۔ انہیں محبت اور وفا کے پانی سے سیراب نہ کیا جائے تو وہ مرجھا جاتے ہیں۔ صرف وعدہ کر لینا کافی نہیں، وقتاً فوقتاً "عہدِ وفا” کی تجدید کرنا بھی ضروری ہے۔ تجدید کا مطلب ہے اپنے وعدوں اور رشتوں کو دوبارہ یاد کرنا اور پہلے سے زیادہ خلوص سے نبھانا۔
عہدِ وفا کا مفہوم
"عہد” کا مطلب ہے وعدہ اور پختہ ارادہ۔ "وفا” کا مطلب ہے سچائی سے نبھانا۔ یہ عہد اللہ سے، وطن سے، والدین سے، دوستوں سے اور خود اپنے ضمیر سے ہو سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ انسان مصروف ہو کر اپنے وعدے بھول جاتا ہے۔ اس لیے تجدید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ "تم نے کیا عہد کیا تھا؟
تجدید کی ضرورت
رشتوں کے لیے میاں بیوی، دوست، استاد اور شاگرد کے تعلق کی بنیاد عہد ہے۔ اگر ہم وعدے بھول جائیں تو رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ شادی کی سالگرہ یا رمضان جیسے مواقع تجدید کا بہترین ذریعہ ہیں۔قوم کے لیے 14 اگست کو ہم پرچم لہرا کر وطن سے وفا کے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ پاکستان "لا الہ الا اللہ” کے عہد پر بنا تھا۔ ہر نسل کو اس کی حفاظت کرنی ہے۔خود احتسابی کے لیے ہر شخص نے خود سے عہد کیا ہوتا ہے کہ "میں محنت کروں گا، سچ بولوں گا”۔ نئے سال یا جمعہ کا دن ہمیں اپنا جائزہ لینے کا موقع دیتا ہے۔روحانی سکون کے لیے ہم ہر نماز میں "ایاک نعبد و ایاک نستعین” پڑھ کر اللہ سے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ اس سے دل کو سکون ملتا ہے۔
تاریخ سے مثالیں
بیعتِ عقبہ اور بیعتِ رضوان عہدِ وفا کی عظیم مثالیں ہیں۔ صحابہ نے اس عہد پر سب کچھ قربان کر دیا۔ قائد اعظم کا "اتحاد، ایمان، تنظیم” کا نعرہ بھی ایک عہد تھا جس کی تجدید سے ہمیں ملک ملا۔ شہداء اپنی جان دے کر وطن سے عہد نبھاتے ہیں۔
تجدید کیسے کریں؟
یاد دہانی خود سے سوال کریں "میرا مقصد کیا تھا؟”
معافی پرانی غلطیاں معاف کر کے نئے سرے سے شروع کریں۔
عمل بڑے دعووں کے بجائے چھوٹے کام کریں۔ والدین کا خیال رکھنا، ایمانداری سے کام کرنا بھی وفا ہے۔
کردار جو کہیں وہ کریں۔ لفظوں سے زیادہ کردار بولتا ہے۔
عہد توڑنے سے معاشرے میں بے اعتمادی پھیلتی ہے۔ رشتے ٹوٹتے ہیں اور انسان اپنی نظر میں گر جاتا ہے۔
علامہ اقبال نے کہا:
"افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر”
اگر ہم سب اپنے عہد کی تجدید کرتے رہیں تو نہ کوئی رشتہ ٹوٹے گا نہ کوئی قوم کمزور ہوگی۔ عہدِ وفا کی تجدید دراصل اپنی انسانیت کی تجدید ہے۔
