سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر قائم سی آئی اے اسٹیشن کو مبینہ ایرانی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
ریاض میں واقع سی آئی اے کے مرکز کو مشتبہ ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سے عمارت کی چھت جزوی تباہ ہوگئی، یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملے میں سی آئی اے ایجنٹ یا اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں یا نہیں، سی آئی اے ہی نے حملے کے لیے آیت اللّٰہ خامنہ ای کے گھر کا تعین کیا تھا۔
امریکا نے ایران پر حملہ ایسے وقت کیا ہے جب سی آئی اے ایرانی حکومت کے خلاف جنگجوؤں کو مسلح بغاوت کے لیے کھڑا کرنے پر کام کررہی ہے جن میں کرد جنگجو بھی شامل ہیں۔
ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ
عرب میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں عمارت کے اندر آگ اور دھویں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے،اس سے قبل ایرانی ڈرونز نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کردیا گیا، جب کہ ایک اور کارروائی میں 9 ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا،ر یاض کے جنوب میں واقع ضلع ’الخرج‘ میں دو کروز میزائلوں کو دفاعی نظام نے بروقت روکا اور تباہ کر دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ مملکت کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی 9 ڈرونز کو بھی فوری طور پر نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا۔
بھیک منگوانےوالا گروہ سرگرم ،اصل حقداروں کی حق تلفی،نوٹس کی اپیل
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔ اجلاس میں مشکل وقت میں سعودی عرب کی حمایت کرنے والے برادر اور دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔
خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ ایران کے سپریم لیڈر منتخب، اسرائیلی میڈیا
