Baaghi TV

رزقِ حلال پر ٹوٹتی قیامت،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

کل آئی ٹن کی سبزی منڈی میں جو کچھ دیکھنے اور سننے کو ملا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، وہ انسانیت کے چہرے پر پڑنے والا ایک ایسا طمانچہ تھا جس کی گونج شاید بہت دیر تک میرے اندر سنائی دیتی رہے گی۔
ایک عام سی صبح تھی۔ سڑکوں پر زندگی رواں تھی۔ کوئی سبزی کی ریڑھی سجائے کھڑا تھا، کوئی پھلوں کی ٹوکری سنبھالے گاہک کا انتظار کر رہا تھا۔ کسی کے چہرے پر رات بھر کی تھکن تھی تو کسی کی آنکھوں میں اس امید کی روشنی کہ آج کچھ کما لوں گا تو شام کو بچوں کے لیے راشن لے جاؤں گا۔ یہ لوگ کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے تھے۔ یہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے رزقِ حلال کمانے نکلے تھے۔
مگر پھر اچانک وہ صبح خوف میں بدل گئی۔
تجاوزات ہٹانے کے نام پر آنے والے اہلکاروں نے ریڑھیاں الٹ دیں۔ ٹوکریاں گریں، پھل اور سبزیاں سڑک پر بکھر گئیں۔ کسی کا دن بھر کا سامان کیچڑ میں لت پت تھا، کسی کی جمع پونجی لوگوں کے قدموں تلے روندی جا رہی تھی۔ اور وہ غریب، جو شاید سارا دن دھوپ میں کھڑے ہو کر چند ہزار روپے کمانے کی امید لیے آیا تھا، اپنے رزق کو سڑک پر بکھرتا دیکھ کر ہاتھ جوڑ رہا تھا۔
کوئی کہہ رہا تھا، "صاحب! یہ نہ لے جائیں، میرے بچوں کا خرچ اسی سے چلتا ہے۔”
کوئی اپنی ریڑھی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔
کوئی زمین پر بکھری ہوئی سبزیاں اکٹھی کر رہا تھا۔
اور کوئی شاید صرف خاموش کھڑا تھا، کیونکہ اس کے پاس رونے کے سوا کچھ بچا ہی نہیں تھا۔
کیا کسی نے ان آنکھوں میں جھانک کر دیکھا کہ ان کے اندر کتنی قیامت برپا تھی؟
ریڑھی الٹنے والوں کے لیے وہ شاید ایک معمول کی کارروائی تھی، مگر جس کی ریڑھی الٹی، اس کے لیے وہ صرف لکڑی اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں تھا۔ وہ اس کے بچوں کی روٹی تھی، گھر کا چولہا تھا، بیمار ماں کی دوا تھی، بیٹی کی فیس تھی، اور شاید پورے خاندان کی واحد امید تھی۔
اور پھر وہ منظر بھی سننے کو ملا جس نے اس تکلیف کو اور گہرا کر دیا کہ کارروائی کے دوران غریبوں سے چھینا یا بکھرا ہوا سامان بعد میں مبینہ طور پر آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے یا انتہائی کم قیمت پر فروخت کر دیا جاتا ہے۔
اگر یہ بات درست ہے تو پھر سوال صرف قانون کا نہیں، ضمیر کا ہے۔
آخر کسی غریب کی روٹی پر ہاتھ ڈالنے کا حق کس نے دیا؟
کسی کے بچوں کا نوالہ چھین کر اسے قانون کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟
کسی کی دن بھر کی محنت کو سڑک پر روند کر ہم اپنے آپ کو مہذب معاشرہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
یہ سوال میرے اندر مسلسل شور کر رہے ہیں۔
اور یہ صرف آئی ٹن منڈی کی کہانی نہیں۔

یہ ہمارے معاشرے کے اس چہرے کی تصویر ہے جہاں غریب کی کمزوری سب سے آسان نشانہ بن چکی ہے۔

کراچی کے گلبرگ میں ایک محنت کش خاتون کے فوڈ کارٹ کے خلاف کارروائی کی ویڈیوز اور خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ وہ خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی رہی کہ وہ آلو کے چپس کا اسٹال لگا کر اپنے گھر کا گزر بسر کرتی ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے؛ ایک عورت جو اپنے ہاتھوں سے بچوں کے لیے رزق کمانا چاہتی ہے، اگر اس کا چھوٹا سا کاؤنٹر بھی اس سے چھین لیا جائے تو اس کے پاس باقی کیا رہ جاتا ہے؟
لاہور میں بھی تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران ایک شہری کا نیا رکشہ توڑے جانے کی خبر سامنے آئی، حالانکہ وہ رکشہ اس کے خاندان کی آمدنی کا واحد ذریعہ بتایا گیا۔
قانون ضروری ہے۔
شہر صاف ہونے چاہئیں۔
تجاوزات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
مگر کیا قانون کا مطلب بے بسی کی تذلیل ہے؟
کیا ریاست کا اختیار اس لیے ہے کہ کمزور آدمی کے ہاتھ سے اس کی روٹی چھین لی جائے؟
اگر کوئی تجاوزات کر رہا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کیجیے، جرمانہ کیجیے، متبادل جگہ دیجیے، اس کا سامان محفوظ طریقے سے منتقل کیجیے۔ مگر اس طرح کہ اس کی عزت بھی محفوظ رہے اور اس کے بچوں کا چولہا بھی نہ بجھے۔
کیونکہ ریاست صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، ریاست اپنے سب سے کمزور شہری کی حفاظت کا نام بھی ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ ایک عام آدمی آٹا، دال، چاول اور سبزی تک سوچ سمجھ کر خریدنے پر مجبور ہے، بچوں کی فیس اور بجلی کے بل کے درمیان انتخاب کر رہا ہے، زندگی بیلنس نہیں ہو پا رہی
ایک غریب کی چند ہزار روپے کی ریڑھی قانون کی نظر میں مسئلہ بن جاتی ہے، تو غریب کہاں جائے ؟
یہ کیسا نظام ہے؟
یہ کیسا انصاف ہے؟
یہ کیسی ترجیحات ہیں؟
میں کل سے یہی سوچ رہی ہوں کہ آخر اس غریب نے ایسا کیا جرم کیا تھا؟
وہ چور نہیں تھا۔
وہ ڈاکو نہیں تھا۔
وہ کسی کا حق مارنے نہیں نکلا تھا۔
وہ صرف اپنے بچوں کے لیے روٹی کمانے نکلا تھا۔
اس کے ہاتھ میں بندوق نہیں تھی، ایک ریڑھی تھی۔
اس کی جیب میں حرام کمائی نہیں تھی، دن بھر کی محنت تھی۔
اس کے پاس سفارش نہیں تھی، صرف دو ہاتھ تھے۔
اور شاید اسی لیے وہ سب سے کمزور تھا۔
کاش ہمارے اختیار رکھنے والے لوگ کبھی ایک صبح اپنی گاڑیوں اور دفاتر سے باہر نکل کر ان ریڑھی والوں کے درمیان کھڑے ہوں۔ کبھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ایک غریب کے لیے ایک ریڑھی صرف ریڑھی نہیں ہوتی۔ وہ اس کا چھوٹا سا کاروبار، اس کی عزت، اس کی امید اور اس کے گھر کا چولہا ہوتی ہے۔
کل سڑک پر صرف سبزیاں نہیں بکھری تھیں۔
کسی کے خواب بکھرے تھے۔
کسی کی امید بکھری تھی۔
کسی ماں کی بچوں کو کھانا کھلانے کی خواہش بکھری تھی۔
کسی باپ کی عزتِ نفس بکھری تھی۔
اور شاید سب سے بڑھ کر… ہماری انسانیت بکھری تھی۔
میں اس منظر کو بھول نہیں پا رہی۔
نہ جانے وہ لوگ آج اپنے گھروں میں کیا لے کر گئے ہوں گے؟
شاید خالی ہاتھ۔
شاید خالی جیب۔
شاید بچوں کے سوالوں کے جواب میں صرف خاموشی۔
اور شاید رات کو جب ان کے بچے سو گئے ہوں گے تو وہ خود بھی کسی کونے میں بیٹھ کر روئے ہوں گے کہ صبح جس رزق کی امید لے کر نکلے تھے، شام کو وہی رزق ان سے چھین لیا گیا۔
یا اللہ!
تو ان بے بس لوگوں کے آنسو دیکھ رہا ہے۔
تو ان کے ہاتھوں کی محنت جانتا ہے۔
تو ان کے گھروں کے چولہوں کی خاموشی سے واقف ہے۔
تو ان بچوں کی بھوک سے بھی واقف ہے جن کے باپ آج خالی ہاتھ گھر لوٹے۔
بس اتنا کر دے کہ جن ہاتھوں نے غریب کا رزق روندنے میں ذرا بھی رحم نہ کیا، ان کے دلوں میں کبھی اس منظر کی چبھن پیدا ہو۔
کیونکہ غریب کی آہ بہت خاموش ہوتی ہے، مگر اللہ کے ہاں خاموش نہیں رہتی۔
اور یاد رکھیے…
کسی غریب کی ریڑھی گرانا شاید چند منٹ کی کارروائی ہو، مگر اس کے گھر کا چولہا بجھانا ایک پورے خاندان پر ٹوٹنے والی قیامت ہوتی ہے۔یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں رہتا، یہ انسانی المیہ بن جاتا ہے۔
اور شاید آج ہمیں سب سے زیادہ اسی احساس کی ضرورت ہے کہ قانون کی طاقت اپنی جگہ، مگر رحم، عزتِ نفس اور انسانیت بھی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔

More posts