Baaghi TV

جنگ کے بغیر جنگ،معیشت، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کی بدلتی ہوئی عالمی بساط،تحریر: طاہر محمود

دنیا بدل رہی ہے، اور اس کے ساتھ جنگ کا مفہوم بھی بدل چکا ہے۔ کبھی طاقت کا اظہار توپوں، ٹینکوں اور میزائلوں سے ہوتا تھا، مگر آج دنیا ایک ایسی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں بارود کم اور معیشت، اطلاعات، ٹیکنالوجی اور ذہنوں کی طاقت زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر کم اور منڈیوں، ذرائع ابلاغ، سائبر دنیا اور عالمی سفارت کاری کے ایوانوں میں زیادہ لڑی جا رہی ہے۔

اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا پر اثر و رسوخ کس کا ہوگا؟ اس کا جواب صرف فوجی طاقت میں تلاش کرنا اب کافی نہیں۔ آج وہی ملک زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے جو مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم، تحقیق، اطلاعاتی برتری اور مؤثر سفارت کاری رکھتا ہو۔

معیشت اب محض دولت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔ تجارتی پابندیاں، معاشی دباؤ، توانائی کے وسائل، عالمی منڈیاں، اہم معدنیات اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی اب طاقت کے ایسے ستون ہیں جن کے ذریعے ممالک ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے اس کی معیشت کو کمزور کرنا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح اطلاعات کا میدان بھی عالمی کشمکش کا نیا محاذ بن چکا ہے۔ ایک خبر، ایک تصویر، ایک مختصر ویڈیو یا چند جملے کروڑوں انسانوں کی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو خبر کا ممکنہ ذریعہ بنا دیا ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ غلط معلومات، افواہوں اور مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک ایسی تصویر بنائی جا سکتی ہے جو کبھی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو، کسی شخص کی آواز کی نقل تیار کی جا سکتی ہے اور ایسا مواد تخلیق کیا جا سکتا ہے جو بظاہر حقیقت محسوس ہو۔ آنے والے دور میں شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ خبر کتنی تیزی سے ہم تک پہنچی، بلکہ یہ ہوگا کہ جو کچھ ہم دیکھ اور سن رہے ہیں، وہ حقیقت بھی ہے یا نہیں؟

یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں قومی سلامتی کا تصور بھی وسیع ہو گیا ہے۔ اب کسی ملک کی حفاظت صرف سرحدوں کی نگرانی سے ممکن نہیں۔ اس کی معیشت، توانائی، مواصلاتی نظام، سائبر ڈھانچے، تعلیمی ادارے، تحقیقی مراکز اور اطلاعاتی نظام بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔

اس عالمی کشمکش میں بڑی طاقتیں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، نیم موصل صنعت، سائبر ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور جدید مواصلاتی نظام آنے والے برسوں کی طاقت کا تعین کریں گے۔ جو قومیں تحقیق اور علم میں آگے ہوں گی، وہ صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی زیادہ مؤثر ہوں گی۔

پاکستان کے لیے اس بدلتی ہوئی دنیا میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت یقیناً ایک بڑی طاقت ہے، مگر صرف جغرافیہ مستقبل کی ضمانت نہیں۔ ہمیں اپنی اصل طاقت اپنے نوجوانوں، تعلیم، ہنر، تحقیق، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت میں تلاش کرنا ہوگی۔

پاکستان کی نوجوان آبادی دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ایک بڑا سرمایہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق کے مواقع اور روزگار فراہم کیا جائے تو یہی انسانی سرمایہ پاکستان کو عالمی معیشت میں ایک اہم مقام دلا سکتا ہے۔ ہمیں صرف صارف بننے کے بجائے علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعات پیدا کرنے والی قوم بننا ہوگا۔

اسی طرح عالمی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کو بھی نئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔ ہمیں طاقت کے مختلف مراکز سے متوازن تعلقات رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ دنیا اب کسی ایک طاقت کے گرد محدود نہیں رہی؛ اس لیے دانش مندانہ، متوازن اور دوراندیش خارجہ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ کون زیادہ ہتھیار جمع کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی قوم کو زیادہ تعلیم یافتہ، خوشحال، باصلاحیت اور باخبر بناتا ہے۔ بندوق دشمن کو خوفزدہ کر سکتی ہے، مگر علم نسلوں کو بدل دیتا ہے۔ میزائل سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے، مگر مضبوط معیشت ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دیتی ہے۔

دنیا کی یہ نئی جنگ شاید واقعی جنگ کے بغیر جنگ ہے۔ اس میں بارود کی آواز کم سنائی دیتی ہے، مگر فیصلے بہت دور رس ہوتے ہیں۔ یہ جنگ زمین پر قبضے سے زیادہ ذہنوں، منڈیوں اور ٹیکنالوجی پر برتری کی جنگ ہے۔

اور اس نئی عالمی بساط پر پاکستان کے لیے راستہ بالکل واضح ہے: علم کو طاقت، معیشت کو بنیاد، ٹیکنالوجی کو ہتھیار اور امن کو اپنی سفارت کاری کا اصول بنانا ہوگا۔ کیونکہ آنے والی دنیا میں وہی قومیں باوقار رہیں گی جو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھ کر خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

More posts