پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تعمیر و ترقی میں مختلف مذاہب، قومیتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی مسیحی برادری بھی ملک کی وفادار اور محبِ وطن شہری ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں مسیحیوں نے تعلیم، صحت، سماجی خدمت، سیاست اور خصوصاً دفاعِ وطن کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وطن کی سرحدوں کی حفاظت سے لے کر اندرونی امن و استحکام تک، مسیحی پاکستانیوں نے قربانی، بہادری اور فرض شناسی کی قابلِ قدر مثالیں قائم کی ہیں۔
قیامِ پاکستان کے وقت بھی مسیحی رہنماؤں اور عام مسیحی شہریوں نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ آزادی کے بعد جب ایک نئی ریاست کو مختلف شعبوں میں ماہر افراد کی ضرورت تھی تو مسیحی برادری نے ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور تعاون کیا۔ خصوصاً تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مسیحی اداروں نے اہم کردار ادا کیا، جس سے ملک کے دفاعی اور سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد ملی۔
پاکستان کی مسلح افواج میں مسیحی برادری کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور دیگر دفاعی اداروں میں مسیحی پاکستانیوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ ان میں ایسے بہادر سپاہی اور افسر بھی گزرے ہیں جنہوں نے ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان شہداء کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وطن کی محبت کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے تمام شہریوں کا مشترکہ جذبہ ہے۔
مسیحی برادری کے بہادر سپوت میجر جنرل جولین پیٹر پاکستان آرمی کی تاریخ میں ایک نمایاں نام ہیں۔ انہوں نے فوج میں اعلیٰ عہدے تک پہنچ کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ملک کی خدمت کی۔ اسی طرح ایئر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال نے پاک فضائیہ میں اہم خدمات انجام دیں۔ مسیحی افسران اور جوانوں نے مختلف جنگی اور دفاعی ذمہ داریوں میں حصہ لے کر یہ ثابت کیا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔
پاکستان کی دفاعی تاریخ میں گروپ کیپٹن سیسل چودھری کا نام خصوصی احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ پاک فضائیہ کے انتہائی قابل اور بہادر پائلٹ تھے۔ 1965ء کی جنگ میں انہوں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ دشمن کے خلاف فضائی کارروائیوں میں ان کی مہارت اور بہادری قابلِ تقلید تھی۔ بعد ازاں انہوں نے تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت کے میدان میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد بیک وقت دفاعِ وطن اور قومی تعمیر دونوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
1965ء کی جنگ کے دوران مسیحی پاکستانیوں نے ملک کے دفاع میں مختلف سطحوں پر خدمات سرانجام دیں۔ مسلح افواج کے مسیحی اہلکاروں کے علاوہ عام شہریوں نے بھی فوج کا حوصلہ بڑھایا، خون کے عطیات دیے اور زخمیوں کی دیکھ بھال میں حصہ لیا۔ چرچ اور مسیحی فلاحی اداروں نے بھی قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس مشکل وقت میں پاکستانی قوم نے مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔
1971ء کے بعد بھی مسیحی فوجی اہلکاروں نے ملک کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار جاری رکھا۔ بعد کے ادوار میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی مسیحی پاکستانیوں نے سکیورٹی اداروں میں خدمات انجام دیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کے فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں سے بڑی قربانیاں طلب کیں۔ مسیحی اہلکار بھی ان قربانیوں میں شریک رہے اور کئی افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
دفاعِ پاکستان صرف بندوق اٹھا کر سرحد پر لڑنے کا نام نہیں۔ ایک مضبوط ملک کے لیے تعلیم یافتہ، صحت مند، باشعور اور متحد قوم بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے مسیحی برادری نے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور فلاحی تنظیموں کے ذریعے ملک کی خدمت کی ہے۔ مسیحی تعلیمی اداروں نے کئی نسلوں کو تعلیم دی اور ایسے افراد تیار کیے جنہوں نے فوج، سرکاری اداروں، طب، تعلیم، سائنس اور دیگر شعبوں میں ملک کی خدمت کی۔ یوں مسیحی برادری کی خدمات کو وسیع تر معنوں میں دفاعِ وطن کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
قومی دفاع کے لیے اتحاد اور یک جہتی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں ملک کا لازمی حصہ ہیں۔ مسیحی برادری نے مختلف قومی مواقع پر پاکستانی پرچم سے اپنی محبت اور ملک سے وفاداری کا اظہار کیا ہے۔ قومی دنوں، یومِ آزادی اور یومِ دفاع کے موقع پر مسیحی پاکستانی بھی دیگر شہریوں کے ساتھ مل کر وطن کی سلامتی اور خوش حالی کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ یہ جذبہ قومی یک جہتی کو مضبوط بناتا ہے۔
مسیحیوں کی قربانیوں کا اعتراف صرف ان کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ پاکستان کی مشترکہ قومی تاریخ کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی حفاظت اور ترقی میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور قومی زندگی میں کردار ادا کرنے کا حق دیتا ہے۔ لہٰذا ایک مضبوط پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ تمام شہریوں کو مساوی مواقع، عزت اور تحفظ حاصل ہو۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ دفاعِ پاکستان میں مسیحی برادری کا کردار قابلِ فخر اور قابلِ احترام ہے۔ مسیحی فوجیوں اور افسران نے سرحدوں کی حفاظت میں خدمات انجام دیں، کئی بہادر سپوتوں نے اپنی جانیں قربان کیں، جب کہ عام مسیحی شہریوں نے تعلیم، صحت، فلاح اور قومی خدمت کے ذریعے ملک کو مضبوط بنانے میں حصہ لیا۔ گروپ کیپٹن سیسل چودھری جیسے عظیم سپوت ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ اس کی حفاظت، ترقی اور خوش حالی کی ذمہ داری بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مسیحی برادری کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ وطن سے محبت مذہب، زبان اور قومیت کی حدود سے بالاتر ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کے تمام شہری اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ ملک کی خدمت کریں تو ہمارا وطن مزید مضبوط، پُرامن اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔
