Baaghi TV

‎روس شمالی کوریا کی مدد کے بغیر جنگ جاری نہیں رکھ سکتا: زیلنسکی

‎یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے شمالی کوریا کی فوجی مدد پر بڑھتے ہوئے انحصار کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ماسکو کے پاس اپنے جنگی وسائل کے اسٹریٹجک ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور شمالی کوریا کی معاونت روس کے لیے اہم بن گئی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی تعاون مزید بڑھ رہا ہے اور یوکرین کے خلاف جنگ میں پیانگ یانگ کی جانب سے فوجیوں اور بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس میں 30 ہزار سے 50 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر کے مطابق شمالی کوریا کی فوجی معاونت صرف روس کی جنگی صلاحیت کو سہارا نہیں دے رہی بلکہ اس کے نتیجے میں شمالی کوریا کو بھی جدید جنگ کے حقیقی حالات میں اپنے ہتھیار اور فوجی صلاحیتیں آزمانے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان بڑھتا تعاون یوکرین کے علاوہ دیگر ممالک کے لیے بھی طویل مدتی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق یوکرین نے شمالی کوریا کے میزائل روس کی جانب سے استعمال کیے جانے کے شواہد بھی پیش کیے ہیں۔ یوکرینی فوجی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی ایک میزائل یونٹ روس کے وورونیز علاقے میں تعینات ہوئی ہے، جس میں تقریباً 90 اہلکار اور ممکنہ طور پر 120 بیلسٹک میزائل اور چھ لانچر شامل ہیں۔
شمالی کوریا اس سے قبل بھی روس کی مدد کے لیے فوجی اہلکار بھیج چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2024 میں تقریباً 14 ہزار شمالی کوریائی فوجی روس کے کرسک علاقے میں تعینات کیے گئے تھے، جبکہ پیانگ یانگ نے روس کو توپ خانے کے گولے اور بیلسٹک میزائل بھی فراہم کیے ہیں۔
‎زیلنسکی نے عالمی برادری خصوصاً جنوبی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کو روس سے جدید فوجی ٹیکنالوجی اور جنگی تجربہ حاصل ہو رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم روس اور شمالی کوریا کی جانب سے زیلنسکی کے اس دعوے کی مکمل طور پر آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے 30 ہزار سے 50 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور روس کے اسٹریٹجک ذخائر ختم ہونے کے دعوے کو یوکرینی صدر کے مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

More posts