لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن میں معروف ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ خاتون عائشہ شرافت کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں رجب بٹ سمیت دیگر افراد پر حملے اور دھمکیوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں عائشہ شرافت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ 25 جولائی کو اپنی چند دوستوں کے ہمراہ ایک نجی کیفے میں کھانا کھانے گئی تھیں۔ ان کے مطابق اسی دوران وہاں موجود دو لڑکوں اور دو لڑکیوں نے ان کی ایک دوست کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی، جس پر دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔
مدعیہ کا الزام ہے کہ صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد ملزمان نے نہ صرف ان کی دوست کو تھپڑ مارے بلکہ اسلحہ بھی نکال لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق میر شفیع نامی ایک ملزم نے مبینہ طور پر موقع پر فائرنگ بھی کی، جس سے کیفے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
شکایت کنندہ نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ رجب بٹ کے کہنے پر کیا گیا۔ ایف آئی آر میں ان الزامات کی بنیاد پر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب نواب ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں حقائق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں رجب بٹ مختلف قانونی معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ تاہم اس نئے مقدمے میں عائد الزامات کے حوالے سے رجب بٹ یا ان کے وکیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اس لیے مقدمے میں درج الزامات کی تصدیق عدالت یا تفتیشی عمل مکمل ہونے تک نہیں کی جا سکتی۔
ٹک ٹاکر رجب بٹ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
