صدر ایمر نے صحافیوں کو تنخواہ نہ دینے اور دفاتر میں کرونا سے حفاظتی اقدام نہ کرنے پر آواز اٹھا دی
باغی ٹی وی :ایمرا نے اہنے ورکرز کو تنخواہ نہ دینے اور کورونہ کے خلاف حفاظتی اقدام نہ کرنے پر پھر سے آواز اٹھائی ہے. نوائے وقت گروپ میں میں ایک سال تنخواہیں اور بقایا جات کی ادائیگی نہیں کی گئیں ہے بلکل دفتر میں کام کرنے والے ورکرز کو ابھی تک ماسک، سینیٹائزر اور دستانے تک نہیں دئیے گے بلکل صاف پانی بھی میسر نہیں ہے دوسرا ادارہ جنگ گروپ ہیں جہاں پر صرف تمام اداروں میں سینیٹائزر دئیے گئے ہیں اور تنخواہیں ابھی تک نہیں دی گئی ہیں تیسرا ادارہ دن گروپ جہاں تنخواہیں روک دی گئی ہیں اور سینیٹائزر اور ماسک تک نہیں دئیے گے ہیں چوتھا ادارہ سٹی فوئٹی ٹو جہاں ابھی تک تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں پانچواں ادارہ نیوز ون چینل جہاں سات ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کئی گئی ہیں اور نہ ہی کوئی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں چھٹا ادارہ پبلک نیوز چینل جہاں ابھی تک تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں ساتویں ادارہ کیپٹل نیوز چینل جہاں ابھی تک تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی کوئی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں اس طرح آپ نیوز چینل ہیں جہاں تین ماہ کی کرنٹ تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی سابق بقایا جات کی ادائیگی کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں نئی بات نیوز گروپ،
چینل فائیو ،خبریں، سچ نیوز چینل اور اب تک نیوز چینل میں بھی یہی صورتحال ہے اس وقت صرف دس اداروں میں بہترین حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں جن میں جی این این نیوز چینل، 92 نیوز گروپ ، ڈان نیوز گروپ، ایکسپریس گروپ ، دنیا گروپ، سماء نیوز چینل، اے آر وائی نیوز چینل، بول نیوز چینل، آج نیوز چینل اور کرونا وائرس کے ایک مریض سامنے آنے کے بعد سٹی فوئٹی ٹو گروپ بھی اس میں شامل ہوگیا ہے تمام لیڈر اپنے اپنے ادارے سے خاموشی اختیار کرکے دوسرے اداروں پر الزامات لگانے کی بجائے میرٹ پر بات کرے تو اختلافات ختم ہوجائے گے مالکان کسی کے سگے نہیں ہے صرف اپنے ورکرز دوستوں کا سوچیں اور خاص طور پر اپنے بے روز گار دوستوں کا سوچے شکریہ
شکریہ
صدر ایمرا
محمد آصف بٹ
