اسلام آباد: سینیٹ نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے، پنشنرز کے منجمد میڈیکل الاؤنس کی بحالی اور عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے متعدد اہم تجاویز پیش کی ہیں۔
سینیٹ کی سفارشات کے مطابق وفاقی ملازمین اور پنشنرز کے منجمد میڈیکل الاؤنس کو فوری طور پر بحال کیا جائے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ایوان نے یہ بھی تجویز دی کہ تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے۔ اس کے علاوہ اشیائے خورونوش، ادویات، تعلیمی سامان اور زرعی ان پٹ پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔
سینیٹ نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے خصوصی فنڈ مختص کرنے اور گھریلو صارفین و کم آمدنی والے افراد کے بجلی کے بلوں پر عائد اضافی ٹیکس اور سرچارجز واپس لینے کی بھی تجویز دی ہے۔
زرعی شعبے کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور زرعی مشینری پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز ختم کی جائیں تاکہ کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
سینیٹ نے آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کے لیے ٹیکس استثنیٰ میں مزید 10 سال کی توسیع کی سفارش بھی کی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں، بنیادی صحت، اعلیٰ تعلیم، تحقیقی فنڈز اور اسکالرشپس کے لیے بجٹ بڑھانے پر زور دیا ہے۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے ٹیکس نظام آسان بنایا جائے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ افراد کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنایا جائے۔
سینیٹ نے لگژری گاڑیوں، مہنگی جائیدادوں اور غیر پیداواری اثاثوں پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جبکہ پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے پراپرٹی ٹیکس میں رعایت برقرار رکھنے اور سرمایہ کاری یا دوسری مرتبہ جائیداد خریدنے والوں پر موجودہ ٹیکس برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ایک اور اہم سفارش میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کو، جو پاکستان میں مقیم ہوں یا مختصر دورے پر آئیں، اپنے ذاتی استعمال کے لیے شراب لانے کی اجازت دی جائے۔
سینیٹ کی بجٹ سفارشات، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی تجویز
