کسی بھی ملک کی سلامتی اس کے دفاعی نظام کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ جس ملک کا دفاعی نظام جتنا مضبوط ہو گا دنیا میں اس ملک کی عزت اور وقار بھی اتنا ہی بلند ہو گا۔
1965 میں جب دشمن نے یہ سوچ کر حملہ کیا کہ "پاکستان 2 ہفتے بھی نہیں چلے گا” تو اسے لاہور کے کھیتوں میں وہ کسان ملے جو ہل چھوڑ کر بندوق اٹھا چکے تھے۔ اسے وہ طالبعلم ملے جو کتاب بند کر کے محاذ پر نکل پڑے۔ اسے وہ افواج ملیں جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ ایمان، اتحاد اور تنظیم کے آگے بڑی سے بڑی فوج بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔
آج 60 سال بعد سوال یہ ہے: کیا ہم نے صرف 6 ستمبر کو چھٹی منانے کے لیے یاد رکھا ہے؟ یا اس دن کے پیغام کو بھی زندہ رکھا ہے؟
دیکھا جائے تو آج کا محاذ بدل چکا ہے۔ اب ٹینکوں کی جگہ ٹرولز نے لے لی ہے۔ گولوں کی جگہ پراپیگنڈا ہے۔ سرحدوں کی جگہ ہمارے نوجوانوں کے ذہن ہیں۔ دشمن ہمیں مایوسی، فرقہ واریت اور "یہاں کچھ نہیں ہو سکتا” کے بیانیے سے توڑنا چاہتا ہے۔
ایسے میں اصل "باغی” وہ ہے جو مایوسی کے خلاف بغاوت کرے۔ جو اپنے گاؤں کے اسکول میں بچے کو سچ لکھنا سکھائے۔ جو اپنے قلم سے قوم کو جگانے کا کام کرے۔ جو یہ ثابت کرے کہ دفاع صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
باغی رائٹرز فورم جیسے پلیٹ فارم اسی لیے اہم ہیں۔ کیونکہ قلم بھی وہی کام کرتا ہے جو فتح میزائل کرتا ہے – دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا ہے۔
آخر میں شہداء کے نام ایک جملہ: "آپ نے وطن بچایا، اب ہم نے وطن سنوارنا ہے”۔
پاکستان فوج زندہ باد
