ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بیٹی کی پیدائش پر اسے رحمت کہا جاتا ہے، اس کی تعلیم، تربیت اور شادی پر خاندان اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتا ہے، مگر جب والدین کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور جائیداد تقسیم ہونے کا وقت آتا ہے تو بعض اوقات یہی بیٹی اپنے ہی گھر میں اپنے حق کے لیے اجنبی بنا دی جاتی ہے۔
یہ صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عورت کو اس کے حق سے محروم کرنے کے لیے ہمیشہ طاقت یا قانون کا سہارا نہیں لیا جاتا؛ کبھی جذبات استعمال ہوتے ہیں، کبھی رشتوں کا واسطہ دیا جاتا ہے، کبھی بھائیوں کی محبت سامنے رکھی جاتی ہے اور کبھی یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ "تمہیں تو جہیز دے دیا تھا۔”
مگر سوال یہ ہے کہ کیا جہیز وراثت کا متبادل ہے؟
ہرگز نہیں۔
جہیز ایک خاندانی روایت ہو سکتی ہے، مگر وراثت ایک مقرر حق ہے۔ کسی بیٹی کو شادی کے وقت دی گئی اشیاء اس کے وراثتی حصے کو ختم نہیں کرتیں۔ اسی طرح بہن کا اپنے بھائی سے محبت کرنا اس بات کا جواز نہیں کہ وہ اپنے حق سے محروم کر دی جائے۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ بعض خاندان عورت کا حصہ روک لیتے ہیں؛ المیہ یہ بھی ہے کہ بعض خواتین معاشرتی دباؤ کے باعث اپنا حق مانگنے سے گھبراتی ہیں۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں بھائی ناراض نہ ہو جائیں، خاندان میں اختلاف نہ پیدا ہو جائے یا لوگ انہیں خودغرض قرار نہ دیں۔
یہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ وہ رشتہ کیسا ہے جسے قائم رکھنے کے لیے ایک بہن کو اپنا حق قربان کرنا پڑے؟
حقیقت یہ ہے کہ وراثت میں عورت کا حق اسے معاشی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ زندگی ہمیشہ ایک جیسے حالات میں نہیں رہتی۔ شوہر کی وفات، طلاق، کاروباری مشکلات، بڑھاپا یا دیگر حالات میں وہی جائیداد عورت کے لیے سہارا بن سکتی ہے جسے کبھی "خاندانی محبت” کے نام پر اس سے چھوڑوا لیا گیا تھا۔
اس لیے معاشرے کو یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ بہن کو اس کا حصہ دینا بھائی کی مہربانی ہے۔ نہیں! یہ مہربانی نہیں، ذمہ داری ہے؛ احسان نہیں، انصاف ہے۔
ہمیں اپنے گھروں سے تبدیلی شروع کرنا ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد میں انصاف کریں، بیٹوں کو چاہیے کہ بہنوں کے حق کو اپنا نقصان نہ سمجھیں، اور بیٹیوں کو اپنے شرعی و قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے۔
میڈیا، علماء، وکلا، اساتذہ اور سماجی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض خواتین کے حقوق کا نعرہ بنا کر نہ چھوڑیں بلکہ عوام کو عملی قانونی اور شرعی رہنمائی فراہم کریں۔
کیونکہ معاشرے اس وقت ترقی کرتے ہیں جب طاقتور کمزور کا حق نہیں کھاتا، بلکہ اس کا حق خود اس تک پہنچاتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا:
بیٹی کو اس کا حصہ دیتے ہوئے ہاتھ نہ روکیں؛
کیونکہ بیٹی کا حق روک کر آپ صرف زمین نہیں روکتے،
آپ ایک انسان کا مستقبل روکتے ہیں۔
اور یاد رکھیے—
بیٹی کو وراثت دینا احسان نہیں، حق دینا ہے؛
اور حق ادا کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔ا
