Baaghi TV

جمہوریت چائے میں،تحریر: یوحنا جان

چائے کی شدت اور اس کا استعمال آج کی ضروریاتِ زندگی میں اول درجہ کا حامل ہے۔ ذخیرہ اندوزی سے لے کر رسد تک، پھر اس کے بعد قابلِ رشک۔ یہ وہ عمل ہے جو آن کی آن میں بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی اپنی گرفت میں لے کر ایک کپ میں مار دیتا ہے۔ یوں کہوں تو بس ایک کپ کی مار ہے اور کیا۔
انھی خیالات میں چند دن قبل اپنے قریبی دوست کو ٹیلی فون کیا، جو اپنی سیاسی مصروفیات کے پیشِ نظر کافی حد تک رابطہ منقطع کر چکا تھا۔ اس "چُکا” کا تو مجھے علم نہیں، البتہ ایک اندازے کے مطابق اس لفظ کا مصدر لیا جائے تو “چُکنا” بن جاتا ہے جس کا مفہوم آپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ اس وقت جس ملک و قوم کا حصہ تصور کرتا ہوں وہاں اس کا استعمال سرِعام ہے، جیسے چائے کی پیالی کے ساتھ کیک، رس، اور چاہت فتح علی کا نام-
آپ سمجھ تو گئے ہی ہوں گے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟
وہ دوست قد میں چھوٹا لیکن حرکات میں متضاد۔ فون پر بات ہو رہی تھی۔ معمول کے مطابق گپ شپ کا آغاز سلام و دعا سے ہوا۔ یہ اگرچہ رسمی ہوتا ہے، پر حسبِ معمول پوچھا:
“تم کہاں غائب ہو گئے ہو؟ ایک وقت تھا کہ کبھی کوئی دن بغیر ملے نہیں گزرتا تھا، پر اب تو…”
اس کا کہنا: “اب وقت نہیں رہا۔”
میں ایک دم چونک گیا۔ یہ کیسا جملہ؟
اس پر اصرار کیا کہ "میں تمھاری بات سمجھا نہیں۔ ذرا روشنی ڈالو۔”
وہ بولا: "ابھی میٹنگ میں جانے لگا ہوں، بعد میں کبھی بتاؤں گا۔”
میں نے جلدی سے کہا: "کل شام تمھارے گھر آؤں گا، تب اس پر بات ہو گی۔ ابھی فون رکھتا ہوں۔”
میں اس کے لہجے اور جملے سے کافی حیران بھی تھا اور پریشان بھی۔ خیر، کیا کِیا جا سکتا ہے؟ ہر بات میں کہنے والا یہی کہتا ہے وہ وقت نہیں رہاکہ زمانہ خراب ہے، لیکن سورج تو آج بھی اپنے مقررہ راستے اور وقت پر طلوع ہوتا ہے۔ آج بھی ایک دن میں چوبیس گھنٹے، سال میں بارہ مہینے ہیں، پر یہ…؟
ماضی کے لوگ بھی اسی زمین سے پیدا ہو کر اسی زمین میں جا چھپے ہیں اور اب اسی دھرتی پر رہنے والوں کا عکس خود ہی تضاد لیے ہوئے ہے مسئلہ پہ مسئلہ پیدا کیے ہوئے ہے۔ فرق کہاں؟
اگلے روز شام کو میں اپنے دوست اکرام کے گھر پہنچا۔ دروازے پر دستک دی، ملازم آیا۔ میں نے اسے بتایا:
"میں اکرام صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ ان کا ایک قریبی اور آج کے زمانے کا فریبی دوست ہوں۔”
اس نے کہا: "اندر آئیے صاحب، گھر پر ہی ہیں۔”
میں کمرے میں داخل ہوا، بے تکلفی سے ملا اور گلے لگایا۔ اس لمحے اس کا لہجہ بدلا بدلا سا تھا۔ اندر فرق، خیال کا تضاد اور ماضی و حال کا فاصلہ۔ نہ جانے وہ ماضی کا انسان کہاں اور یہ حال کا بے حال کہاں؟
میں بیٹھا۔ اس نے چائے بنانے کے لیے ملازم کو کہا جو فرماں برداری میں کافی احترام سے پیش آ رہا تھا۔
چند منٹوں میں چائے آئی۔ اس کے چائے کے انداز کو دیکھتے ہی میں کافی حد تک انجان بھی لگا اور حیرانی کے عالم میں کبھی چائے کو دیکھتا اور کبھی اس کے چہرے کو۔ یہ الم یا ظلم، تو کبھی بے عقلی کی قلم، سپیرے کی بین یا انسان کی توہین، عقل کا ہادی اسی کی بربادی…
ان تاثرات میں ابھی محو تھا کہ چائے کا پیالہ ڈسپوزایبل سفید رنگ کا میرے آگے رکھ دیا گیا۔ جسے ہاتھ میں تھامتے ہی اس کی آواز کانوں تک ٹکرائی:
"کچھ اور…؟”
میں نے فوراً کہا: "نہیں جناب، یہی کافی ہے۔”
چائے کا ذائقہ کافی اچھا معلوم ہوا۔ اسے پیتے پیتے آخر پوچھ ہی لیا:
"آج یہ ڈسپوزایبل تک نوبت کیسے آ گئی؟ کیا گھر میں یہی چلتا ہے؟ پہلے ایک پیالہ اور ہم نوالہ پر اب مخالف نظر…؟”
اس نے زور سے قہقہہ لگایا اور بولا:
"اوہ پگلے! یہ جمہوریت کی چائے ہے۔”
میں چائے پیتے رُک بھی گیا اور رُل بھی۔ مزید دریافت کرنے کی کوشش کی تو اس نے کہا:
"چائے کا ذائقہ اچھا ہے؟”
میں نے کہا: “بالکل۔”
اس نے کہا: “تمھیں چائے سے غرض ہے تو وہ پیو۔”
میں نے اصرار کیا: "پر یہ والا کپ کیوں؟”
ایک دم وہ لمبا قہقہہ لگاتے ہوئے بولا:
"اوہ میرے یار! نہ دھونے کی فکر، نہ سنبھالنے کا سیاپا۔ کیا سمجھے تم، اب میرے چاچا بن گئے ہو؟ جب ان کا کام تمام ہو گیا تو پھر دوبارہ کی کیا ضرورت۔۔۔۔؟”
یہاں شاہ بکتے ہیں، فقیر بکتے ہیں… یہ وہ جملہ تھا جس نے ابھی تک ہوش میں نہیں آنے دیا۔ اس خطے کے لوگ—امیر، صغیر اور کبیر—سب کے سب ذائقہ اور لذت کے مارے حقیقت کھو چکے ہیں۔ علم کا فن نہ اہمیت کا تن، اس تن کے منوں من ذخیرہ اندوزی اور چائے کا سن (زمانہ)۔
میں نے وضاحتی وار کرتے ہوئے پوچھا: "یہ مطلب ذرا سمجھاؤ۔”
اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے سینہ چوڑا کیا، ایک ہاتھ لمبا کر کے دوسری کرسی پر رکھا اور بولا:
"میں نے جمہوریت میں ایک بات سیکھی ہے۔
لفظوں میں ذائقہ، لبوں پر رنگ
جمہوریت چائے میں میرے سنگ، عوام کا پیسہ اور یہ جنگ میرے اپنے مجھ سے تنگ
روٹی کپڑا اور مکان، صرف کہنے کی حد تک جان،اٹھتر سالوں میں خلوت تضاد جلوت پایا، صرف ایک ہی نعرہ گایا۔
مذہبی پجاری اور حلوے کے ٹھیکے، اب صرف دیکھنا غربت اوہ فیکے…”
میں نے چائے کا کپ پیا اور خالی کپ کو میز پر رکھنے لگا تو فوراً جواب آیا:
"جاتے وقت یہ ٹوکری میں پھینک دینا۔”
باہر نکلتے وقت ذہن میں بے چینی کے انبار اور ضمیر آواز دے رہا تھا:
جمہوریت نام ہے ایک مذاق کا،
کہنے اور کرنے میں عیاں ہوا ایک فرقِ سیاق و سباق کا،
ہوئے نہ اب بھی آشنا اپنے آپ سے، تو کیا کہوں یہ نہیں مانے اپنے باپ سے، دکھائی دی پوشاک سفید رنگ سے لبریز، پر انسان کرتا ہے انسان سے گریز۔

More posts