کسی انسان پر جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے مجرم سمجھ لینا صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ انصاف کے پورے تصور کے ساتھ ناانصافی ہے۔ عدالت کا بنیادی کام شواہد کی روشنی میں جرم یا بے گناہی کا فیصلہ کرنا ہے، پولیس کی ذمہ داری غیر جانب دارانہ تفتیش اور شواہد جمع کرنا ہے، جبکہ معاشرے کا فرض ہے کہ افواہ، قیاس اور محض شبہے کی بنیاد پر کسی انسان کی عزت، روزگار اور زندگی کا فیصلہ نہ کرے۔
جب تفتیش کے دوران کسی شخص پر شک کا سایہ پڑے اور معاشرہ اس شک کو حقیقت سمجھ کر اسے سزا دینا شروع کردے تو معاملہ صرف ایک فرد کی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا نظامِ انصاف سوال بن جاتا ہے۔ پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جو ثبوت کو اہمیت دیتا ہے یا ایسا معاشرہ جو شور کو سچ سمجھ لیتا ہے؟کراچی کے میر رضا قتل کیس نے بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ ایک نمایاں قتل کا مقدمہ ہے، جس کی تفتیش کے مختلف مراحل نے پولیس کے طریقۂ کار، شواہد کی اہمیت اور ہمارے اجتماعی رویوں کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔اس مقدمے میں ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا کردار بھی زیرِ بحث آیا، جس نے میر رضا کو قتل سے قبل آخری رات مطلوبہ مقام تک پہنچایا تھا۔ یہاں ایک بنیادی قانونی اور اخلاقی اصول سمجھنا ضروری ہے: کسی مقتول کو آخری مرتبہ کہیں پہنچانا، بذاتِ خود کسی شخص کو قتل کا شریک یا مجرم ثابت نہیں کرتا۔ایک ٹیکسی ڈرائیور کا کام مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہے۔ وہ ہر مسافر کے ارادوں اور مستقبل کے اقدامات سے واقف نہیں ہوتا۔ اگر محض اتفاقی تعلق کو جرم کا ثبوت مان لیا جائے تو پھر ہر ڈرائیور، دکاندار، ہوٹل ملازم یا کسی بھی ایسے شخص کو مشتبہ قرار دیا جاسکتا ہے جس کا کسی مقتول یا ملزم سے کسی مرحلے پر رابطہ رہا ہو۔
شک تفتیش کا آغاز ہوسکتا ہے، جرم کا ثبوت نہیں۔
پاکستان کا آئین منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ آئین کی شق 10-الف کے تحت ہر شخص کو منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار کا حق حاصل ہے۔ اس کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ کسی شخص کو محض الزام یا شبہے کی بنیاد پر مجرم قرار نہ دیا جائے۔ الزام لگانے والے کو ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے اور حتمی فیصلہ عدالت نے کرنا ہوتا ہے۔یہ فرق بھی ہمیشہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ تفتیش میں کسی شخص سے سوال کرنا اور اسے معاشرتی طور پر مجرم قرار دینا دو مختلف معاملات ہیں۔ پولیس کو حق ہے کہ وہ ہر زاویے سے تفتیش کرے، بیان لے، شواہد کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے، لیکن تفتیش کا مطلب یہ نہیں کہ جس شخص سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے وہ مجرم ثابت ہوگیا۔دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے پولیس کی تفتیش میں تعاون کیا۔ جب بھی بلایا گیا، پیش ہوا اور تفتیشی حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ میر رضا کے والدین کے ساتھ بھی رابطے میں رہا اور تعاون کا رویہ اختیار کیے رہا۔ اگر یہ معلومات درست ہیں تو کم از کم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ جذبات یا قیاس کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اصل المیہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی شخص کو صرف شبہے کی بنیاد پر معاشرتی سزا ملنا شروع ہوجائے۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کو آن لائن ٹیکسی کمپنی سے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا اور اس کی رہائش بھی متاثر ہوئی۔سوچیے، اگر جرم ثابت نہیں ہوا تو پھر کسی شخص کی روزی، رہائش اور عزت کیوں ختم ہوجائے؟ اس کے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کے خاندان کو لوگوں کے سوالات کا سامنا کیسے کرنا پڑتا ہوگا؟ اور وہ شخص خود کس ذہنی اذیت سے گزرتا ہوگا؟یہ سزا کس عدالت نے دی؟کیا کسی عدالت نے اسے مجرم قرار دیا؟ کیا کسی عدالت نے اسے ملازمت سے نکالنے یا رہائش سے محروم کرنے کا حکم دیا؟
اگر نہیں، تو پھر معاشرے کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ قانون سے پہلے اپنا فیصلہ سنا دے؟
میر رضا کے والدین کا دکھ اپنی جگہ ایک ناقابلِ بیان حقیقت ہے۔ جس خاندان نے اپنا پیارا کھویا، اس کے لیے انصاف کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔ قاتل کون ہے، قتل کیوں ہوا، جرم کیسے انجام دیا گیا اور اس کے محرکات کیا تھے، ان تمام سوالات کے جواب ملنا ضروری ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مقتول کے خاندان کو انصاف فراہم کرے۔لیکن مقتول کے خاندان کو انصاف دلانے کا راستہ کسی بے گناہ انسان کی زندگی تباہ کرنے سے نہیں گزرتا۔انصاف انتقام نہیں، توازن کا نام ہے۔یہ مقدمہ سندھ پولیس کے تفتیشی نظام کے بارے میں بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا تمام شواہد محفوظ کیے گئے؟ کیا سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب ذرائع کا سائنسی اور غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا گیا؟ کیا ہر ممکن پہلو کو برابر اہمیت دی گئی؟یہ سوال کسی ایک پولیس افسر کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ پورے تفتیشی نظام کی بہتری کے لیے ہیں۔ کمزور تفتیش صرف اصل مجرم کو فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ بے گناہ افراد کو بھی شک کے دائرے میں لے آتی ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر، الزام یا ویڈیو چند منٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ لوگ عدالت سے پہلے فیصلے سنا دیتے ہیں: ’’یہی قاتل ہے‘‘، ’’اسے سزا دو‘‘۔لیکن اگر بعد میں حقیقت مختلف سامنے آئے تو پھیلائی گئی بدنامی واپس نہیں آتی۔ ڈیجیٹل دنیا میں مٹائی ہوئی سیاہی بھی نشان چھوڑ جاتی ہے۔
صحافت کا مقصد سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنے میں معاشرے کی مدد کرنا ہے۔ خبر، الزام، شبہ، تفتیش اور عدالتی فیصلے کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنا صحافتی ذمہ داری بھی ہے اور اخلاقی تقاضا بھی۔
اگر آن لائن ٹیکسی ڈرائیور بے گناہ ہے تو اس کا معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ انسانی مسئلہ بھی ہے۔ اس کے روزگار، عزت اور معمول کی زندگی کی بحالی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اور اگر تفتیش میں اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آتا ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے، اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہو۔نہ کسی کو بلاوجہ بچایا جائے، نہ کسی کو بلاوجہ پھنسایا جائے۔
میر رضا کے قتل کا اصل مجرم کون ہے، اس کا فیصلہ مکمل تفتیش اور عدالتی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے، معاشرتی قیاس آرائیوں سے نہیں۔ مقتول کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے، اصل مجرم قانون کی گرفت میں آنا چاہیے، تفتیش شفاف ہونی چاہیے اور شواہد کو سائنسی بنیادوں پر جانچا جانا چاہیے۔
آج اس آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا معاملہ ہمیں اپنے اجتماعی رویے کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہم نے شک کو ثبوت سمجھ لیا ہے؟ کیا ہم نے تفتیش کو فیصلہ اور افواہ کو حقیقت سمجھ لیا ہے؟ کیا کسی انسان کی روزی، رہائش اور عزت صرف اس لیے چھین لینا درست ہے کہ اس کا نام کسی مقدمے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے؟
ہمیں عدالت کا انتظار کرنا ہوگا۔ ہمیں ثبوت کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف صرف قاتل کو سزا دینے کا نام نہیں، بے گناہ کو مجرم نہ بنانے کا نام بھی ہے۔
میر رضا کے خاندان کو انصاف ملے، اصل مجرم قانون کی گرفت میں آئے، تفتیشی ادارے اپنی کمزوریوں کو دور کریں، میڈیا ذمہ داری کے ساتھ خبر دے اور معاشرہ افواہ کے بجائے تصدیق کو ترجیح دے۔کیونکہ اگر ایک مقتول کو انصاف دلانے کے نام پر کسی دوسرے بے گناہ کی زندگی برباد کردی جائے تو ہم نے قاتل کو نہیں، انصاف کو شکست دی ہے۔اور جب انصاف ہار جائے تو معاشرہ بھی ہار جاتا ہے۔یاد رکھیے: قانون کی اصل طاقت صرف مجرم کو پکڑنے میں نہیں، بے گناہ کو بچانے میں بھی ہے۔
شک جرم نہیں ہوتا۔
