Baaghi TV

محبت کا آخری خط ،تحریر:شمسہ رانی

کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کر تی ہے۔ جہاں محبت کو تھامے رکھنا نہیں بلکہ محبت کو ازاد کر دینا سب سے بڑا امتحان بن جاتا ہے ۔کچھ جدائیاں فاصلے سے نہیں حالات کی بے بسی سے جنم لیتی ہیں۔ یاسین ملک اور مشعال ملک کی داستاں بھی شاید اسی بے بسی کی ایک دردناک تصویر ہے۔

2005 میں پاکستان آمد کے دوران یاسین ملک کی ملاقات مشعال ملک سے ہوئی۔ دونوں کا تعلق کشمیر سے تھا ۔ایک ہی سرزمین کی نسبت نے دو دلوں کو قریب کیا اور یہ قربت بالاآخر نکاح کے رشتے میں بدل گئی۔ 2012 میں ان کے گھر بیٹی رضیہ نے جنم لیا ۔پھر حالات نے ایسا رخ بدلا کہ یاسین ملک طویل قید کی زندگی میں چلے گئےاور ایک شوہر ،ایک باپ اور ایک خاندان کے درمیان جیل کی دیوار حائل ہو گییں۔مشعال ملک نے برسوں اپنے شوہر کی اواز بن کر دنیا کے سامنے ان کی رہائی اور ملاقات کی کوششیں جاری رکھیں مگر کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں۔ جنہیں نہ دعائیں مٹا پاتی ہیں نہ انتظار

حالیہ عدالتی کاروائی کے دوران یاسین ملک کی طرف سے پیش کیے گئے 25 صفحات کے حلف نامے نے اس داستان کو ایک اور اذیت ناک موڑ دے دیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے خواہش ظاہر کی کہ وہ ان کی زندگی کے انتظار میں اپنی زندگی برباد نہ کرے بلکہ ایک نئی زندگی شروع کریں یہ الفاظ پڑ ھتےہوئے دل نے ایک سوال کیا۔اخر انسان کو کتنی بے بسی گھیر لیتی ہے کہ وہ جسے عمر بھر اپنے ساتھ دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو اس کو اپنے ہاتھوں ازاد کرنے لگے؟یہ فیصلہ درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ متعلقہ فریق اور تاریخ کریں گے۔ مگر ایک شوہر کے دل میں اپنی بیوی کے مستقبل کی فکر اور اپنی بیٹی سے دوری کا قرب انسانی سطح پر ایک الگ ہی داستان سناتا ہے۔ اور پھر اس کہانی میں ایک بیٹی بھی ہے رضیہ سلطانہ
باپ نے شاید اسے آنے والے دکھوں سے بچانے کے لیے رشتہ آزاد کرنا چاہا۔ مگر بیٹی نے اپنے باپ کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اولاد کے لیے باپ صرف ایک شخص نہیں ہوتا ۔وہ بچپن کی وہ چھاؤں ہوتا ہے ۔جسے فاصلے بھی دل سے جدا نہیں کر سکتے۔۔

میں نے جب یہ خبر سوشل میڈیا پر دیکھی تو کچھ لمحوں کے لیے نظریں وہیں ٹھہر گئیں ، آنکھ نم ہو گئی ۔سوچا محبت آخر کون سی شے ہے ۔؟کیا صرف ساتھ رہنے کا نام ہے ۔نہیں شاید محبت کبھی کبھی کسی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا دینے کا نام بھی ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی اور راستے پر چل سکے۔

قید صرف جیل کی چار دیواری نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ سلاخوں کے پیچھے قید ہوتے ہیں اور کچھ انتظار میں
یاسین ملک شاہد اپنی قسمت کی قید سے نکلنے کی امید کھو چکے ہوں مگر انہوں نے اپنی محبت کے لیے ایک دروازہ کھولنے کی کوشش کی ہے۔
شاید محبت کی سب سے دردناک تعریف یہی ہے کہ انسان اپنے محبوب کو اپنے پاس رکھنے کی خواہش کے باوجود اس کے مستقبل کے لیے اسے ازاد کر دے۔
اور بعض اوقات محبت کا اخری خط یہی ہوتا ہے
میں تمہیں چھوڑ نہیں رہا
میں صرف اپنی قید سے تمہیں ازاد کر رہا ہوں

More posts