Baaghi TV

سیلفی کا جنون خطرناک، سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو شارک نے کاٹ لیا

‎سوشل میڈیا پر شارک کے ساتھ تیراکی، سیلفی اور ویڈیوز بنانے کا بڑھتا ہوا رجحان انسانوں اور سمندری حیات دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شارک کے قریب جانے، انہیں چھونے اور ان کے ساتھ خطرناک انداز میں ویڈیوز بنانے سے شارک کے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
‎برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو سے تعلق رکھنے والی تایانے دالازین اپریل میں برازیل کے ساحل پر شارک ڈائیونگ ٹور میں شریک تھیں، جب ایک دو میٹر سے زیادہ لمبی نرس شارک نے ان کی ران کو کاٹ لیا۔ ان کے مطابق شارک نے چند سیکنڈ تک انہیں پانی کے اندر پکڑے رکھا، تاہم بعد میں وہ خود کو چھڑانے میں کامیاب ہو گئیں۔
‎واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد کروڑوں مرتبہ دیکھی گئی۔ دالازین کا کہنا تھا کہ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ٹور آپریٹرز شارک کو خوراک دے رہے تھے تاکہ وہ سیاحوں کے قریب آئیں اور ان کے ساتھ تعامل کریں۔
‎ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں کم از کم تین سوشل میڈیا انفلوئنسرز شارک کے کاٹنے کے واقعات کا شکار ہو چکے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران شارک کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنانے کی کوشش میں کاٹے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
‎شارک سائنسدان کرسچین پارٹن نے خبردار کیا کہ لوگ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز دیکھ کر خطرناک حد تک شارک کے قریب جانے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں مزید سنگین واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ شارک کے حملوں کا مجموعی خطرہ اب بھی انتہائی کم ہے اور دنیا بھر میں بلااشتعال شارک کے کاٹنے کے واقعات کی تعداد کئی دہائیوں سے تقریباً 70 سالانہ کے قریب رہی ہے۔ تاہم انسانوں کا جان بوجھ کر ان کے قریب جانا، انہیں چھونا یا تصاویر بنانے کی کوشش کرنا خطرات بڑھا سکتا ہے۔
‎تحقیقی ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ایسی حرکات شارک کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ انسانی مداخلت سے ان جانوروں میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، جو ان کی صحت، افزائش اور بقا کو متاثر کر سکتا ہے۔
‎ماہرین کا واضح پیغام ہے کہ شارک کو جنگلی جانور سمجھتے ہوئے محفوظ فاصلے سے دیکھا جائے، کیونکہ ایک خطرناک سیلفی یا وائرل ویڈیو کی کوشش جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

More posts