بنوں کے علاقے نورنگ خیل میں فتنہ الخوارج نے ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی روش اپناتے ہوئے آبادی کی آڑ میں نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ بچوں اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انکو بھی اپنی فائرنگ کا نشانہ بنایا
ایسا متعدد بار دیکھا جا چکا ہے کہ خوارج ماضی میں بھی عام آبادی، خواتین اور بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ سیکورٹی فورسز کو بلیک میل کر کے اپنی جانیں بچا سکیں،اس دوران خوارج نے عام شہریوں کو کسی بھی قسم کا جانی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کیا ،ایسے ہتھکنڈوں کو بعد میں پی ٹی ایم بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جیسا کہ آج کے واقعے کے بعد بھی دیکھا گیا
یاد رہے ، کل 2 جون کو بھی بنوں کے علاقے بکا خیل میں خوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے خارجی شاہد عرف کمانڈو کے پی ٹی ایم کے سینئر رہنما عبدالصمد کے ساتھ بہت گہرے روابط تھے اور وہ تو خود بھی پی ٹی ایم کا کارکن تھا، پی ٹی ایم اور فتنہ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جہاں ایک سیاست اور پراپیگنڈے کے لبادے میں چھپا ہوا ہے تو دوسرا بندوق اور بم دھماکوں سے انتشار پھیلاتا ہے،مقامی افراد کو چاہئے کہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمنوں کو پہچانیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کے اپنی نسلوں کو محفوظ بنائیں۔
