Baaghi TV

پمز سانحہ:نومولود کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ انعام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے کے انعام کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کی جانب سے کمال ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ کے باوجود تباہی سے کچھ لمحوں پہلے بھاگ کر ایک بچے کو بچا نے کے عمل پر خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے کمال ذمہ داری اور بہادری کا بہترین ثبوت دیا،اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچانے پر مجھ سمیت پوری قوم کو نرس رضیہ نورین پر فخر ہے ایسے فرض شناس لوگوں کی جس قدر ستائش کی جائے کم ہے۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک بچے کو زندہ بچایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم کی ہدایت پر پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی، جس نے واقعے کی وجوہات، ذمہ داروں کے تعین، اسپتال کے حفاظتی انتظامات اور ریسکیو کارروائی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا –

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے پر اسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمان کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

سی ای او- این آئی ایچ ڈاکر محمد سلمان کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور وزیرِ اعظم کی جانب سے جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کی ہدایت کی گئی ہے۔

More posts