علمائے کرام نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ، گالم گلوچ، فحش زبان اور ویوز کے لیے جھوٹے کیپشنز استعمال کرنے کو شرعی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
ی نجی ٹی وی شو کی رمضان ٹرانسمیشن میں اینکر وسیم بادامی نے فقہی نقطہ نظر سے ٹرولنگ کی اجازت کے بارے میں سوال کیا کہ پہلے اسے گالی دینا کہا جاتا تھا لیکن اب اس عمل کو ’ٹرولنگ‘ کا نام دے دیا گیا ہے اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟اس پر علمائے کرام کا کہنا تھا کہ عنوان بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی،جو شخص گالم گلوچ کرتا ہے اور فحش زبان استعمال کرتا ہے اس کے اثرا ت معا شرے پر بھی پڑتے ہیں اور یہ عمل کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔
ریسرچ کے لیے پاکستان آنے والا کینیڈین شہری لاہور سے اغوا، مقدمہ درج
میزبان کے سوال پر کہ مس لیڈنگ کیپشنز جو زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے لگائی جاتی ہیں اس کے بارے علمائے کرام نے بتایا کہ جھوٹ پر مبنی کیپشنز لگانا اور لوگوں کو دھوکہ دینا ذہنی اذیت کا سبب بنتا ہے۔جب کوئی شخص کسی ویڈیو کو کلک کرتا ہے اور اسے توقع کے مطابق مواد نہیں ملتا تو یہ شدید نارا ضگی اور تکلیف پیدا کرتا ہےایسا عمل نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ گناہ بھی ہے اور اس کی وجہ سے متاثر ہونے والے شخص پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کا گناہ بھی اس شخص کے اعمال میں شامل ہوگا۔
افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب
