وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ایک وقت تھا جب فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے، دوست احباب ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے، اپنی روزمرہ زندگی اور خیالات شیئر کرتے اور باہمی تعلقات کو مضبوط بناتے تھے، لیکن آج صورتحال کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ آج سوشل میڈیا پر لوگوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، مگر اس کے باوجود لوگ ایک دوسرے سے پہلے کی نسبت زیادہ دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود ہیں، رابطے بھی ہیں، لیکن حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ کئی لوگ ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے بھی ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کے بجائے موبائل فون اور سوشل میڈیا کی دنیا میں مصروف نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو آسان بنایا، وہیں انسانی تعلقات میں ایک خاص فاصلے کو بھی جنم دیا ہے۔ پہلے لوگ دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے، بات چیت کرنے اور ایک دوسرے کا حال احوال جاننے کو اہمیت دیتے تھے، جبکہ اب اکثر تعلقات لائک، کمنٹ، شیئر اور مختصر پیغامات تک محدود ہو گئے ہیں۔
اب سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کے رجحانات بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایک دور تھا جب لوگ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر زیادہ وقت گزارتے تھے، لیکن اب بڑی تعداد میں صارفین یوٹیوب اور ویڈیو پر مبنی پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ آج کا صارف صرف تحریر پڑھنے کے بجائے ویڈیو کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب خبروں، تجزیوں، انٹرویوز، معلوماتی پروگراموں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر مقابلہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اب صرف اکاؤنٹ بنانا کافی نہیں بلکہ معیاری، مستند، دلچسپ اور ذمہ دارانہ مواد پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ صارفین ایسے مواد کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو مختصر، واضح، بروقت اور ان کی دلچسپی کے مطابق ہو۔ صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا بھی ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ خود کو بھی اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ خبر اب صرف اخبار یا ٹی وی تک محدود نہیں رہی بلکہ موبائل فون کے ذریعے چند لمحوں میں بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ہ یوٹیوب نے عام لوگوں، صحافیوں اور نئے تخلیق کاروں کو اپنی آواز عوام تک پہنچانے کا ایک بڑا موقع فراہم کیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ غیر مصدقہ خبر، افواہ یا غلط معلومات بہت تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔
مستقبل کا میڈیا مزید ڈیجیٹل ہوگا، جہاں صحافت، سوشل میڈیا، ویڈیو اور عوامی رابطہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو انسانی تعلقات کمزور کرنے کے بجائے مثبت رابطے، آگاہی، تعلیم اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا سے دور ہونا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس کے بدلتے ہوئے رجحانات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ کہیں ہم اپنے حقیقی رشتوں، دوستوں، خاندان اور معاشرتی تعلقات سے تو دور نہیں ہوتے جا رہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں موجود رہنے کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کے رشتوں کو وقت دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جو لوگ وقت کے ساتھ اپنی ڈیجیٹل حکمتِ عملی تبدیل کریں گے اور سوشل میڈیا کو ذمہ داری، مثبت سوچ اور معیاری مواد کے ساتھ استعمال کریں گے، وہ ڈیجیٹل میڈیا کے اس نئے دور میں زیادہ مؤثر انداز میں اپنی آواز عوام تک پہنچا سکیں گے۔
