Baaghi TV

بچوں کے اسپتال پر میزائل حملے کا حکم دینے والاروسی جنرل قاتلانہ حملے میں زخمی

ماسکو: یوکرین کے دارالحکومت کیف کے بچوں کے اسپتال پر میزائل حملے کا حکم دینے کے الزام میں نامزد روسی میجر جنرل نکولائی وارپاخووچ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق جمعرات کو ساراتوف کے علاقے کے شہر اینگلز میں ایک فوجی اہلکار پر کئی گولیاں چلائی گئیں۔ کمیٹی نے زخمی اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم روسی ٹیلی گرام چینلز نے دعویٰ کیا کہ حملے کا نشانہ میجر جنرل نکولائی وارپاخووچ تھے، جو روسی ایرو اسپیس فورسز کی لانگ رینج ایوی ایشن کی 22ویں ہیوی بمبار ایوی ایشن ڈویژن کے کمانڈر ہیں۔روسی حکام کے مطابق فائرنگ میں زخمی ہونے والا فوجی اہلکار زندہ بچ گیا اور اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنرل کو چہرے اور دھڑ میں گولیاں لگیں، جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے ماسکو منتقل کیا گیا۔

نکولائی وارپاخووچ کو یوکرین نے جولائی 2024 میں کیف کے اوخمات ڈیٹ بچوں کے اسپتال پر میزائل حملے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی جنرل نے اپنی کمان میں موجود لانگ رینج ایوی ایشن یونٹس کو اسپتال پر Kh-101 کروز میزائل داغنے کا حکم دیا تھا۔اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا جو حملے میں زخمی ہونے کے چند روز بعد دم توڑ گیا۔ میزائل حملے سے اسپتال کے انتہائی نگہداشت، آنکولوجی، سرجری، ٹراما اور دیگر اہم شعبے شدید متاثر یا تباہ ہوگئے تھے۔یوکرین کی سیکیورٹی سروس اور پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے حملے سے صرف تین روز قبل وارپاخووچ کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر نے اپنے روزانہ خطاب میں ساراتوف کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی مجرم چھپ نہیں سکتے اور انہیں تلاش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین روس کے خلاف اپنی ’’غیر متناسب کارروائیاں‘‘ بھی جاری رکھے گا۔

اینگلز شہر روس کے اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے اہم اڈے کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں سے روسی فوج یوکرین کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے لیے Tu-95MS اور Tu-160 طیارے استعمال کرتی ہے۔نکولائی وارپاخووچ اس سے قبل بھی یوکرین کی جانب سے پابندیوں کی زد میں آچکے ہیں اور مختلف ممالک اور یورپی یونین نے 2024 کے حملوں میں ان کے کردار کے باعث ان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔یہ واقعہ روس میں اعلیٰ فوجی اور سیکیورٹی حکام کو نشانہ بنانے والے حالیہ سلسلے کی ایک اور کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ روس ماضی میں ایسے حملوں کا الزام یوکرین پر عائد کرتا رہا ہے، تاہم کیف نے ان میں سے بیشتر کارروائیوں میں اپنے کردار کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

دسمبر 2024 میں روسی فوج کی جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں سے تحفظ کی فورس کے سربراہ جنرل ایگور کریلوف ماسکو میں اسکوٹر پر نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ روسی فوج کے دیگر اعلیٰ افسران بھی گزشتہ برسوں کے دوران کار بم دھماکوں اور دیگر حملوں میں مارے جاچکے ہیں۔

More posts