Baaghi TV

مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریاکے سابق صدر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

president

سئیول: پراسیکیوٹرز نے جنوبی کوریا کےسابق صدر یون سوک یول کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کر دیا ہے۔

استغاثہ نے عدالت سے کہا ہے کہ اگر یون سوک یول کو دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش پر قصوروار قرار دیا گیا تو انہیں سزائے موت دی جائے یا کم از کم عمر قید سنائی جائےسیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے یون سوک یول کو بغاوت کا سر غنہ قرار دیا۔

استغاثہ کے مطابق سابق صدر کا اقدام اگرچہ چند گھنٹوں میں ناکام ہو گیا، مگر اس نے پورے ملک کو شدید سیاسی بحران سے دوچار کر دیامارشل لا کے نفاذ کی کوشش کے بعد پارلیمنٹ نے یون کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے مقدمے کا سامنا کرایا گیا۔

ملتان سلطانز کی نیلامی ،پی سی بی نے باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا

پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ اس اقدام کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن سابق صدر کے عزائم انتہائی خطرناک اور پُرتشدد نوعیت کے تھے،یون سوک یول طاقت کے نشے میں مبتلا ہو کر آمریت اور طویل المدتی اقتدار کے خواہاں تھے فوجی کمانڈر نے گواہی دی ہے کہ یون نے ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

استغاثہ نے بطور ثبوت ایک خفیہ میمو بھی پیش کیا، جس میں صحافیوں، مزدور رہنماؤں اور سیاستدانوں سمیت سینکڑوں افراد کو ٹھکانے لگانے کی تجویز درج تھی، اس بغاوت کا سب سے بڑا نقصان خود جنوبی کوریا کے عوام کو پہنچا، اس لیے کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا

یون سوک یول نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا اور یہ اقدام اپوزیشن کی مبینہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا گیا۔

عدالت کی جانب سے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ فروری میں سنائے جانے کا امکان ہے تاہم جنوبی کوریا میں گزشتہ تقریباً 30 برس سے سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کے باعث فیصلہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

قلات میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

More posts