Baaghi TV

آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران شدید، ایران کو اسٹریٹجک برتری حاصل

iran

خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز گزشتہ تقریباً چار ہفتوں سے عملی طور پر بند ہے، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے جبکہ صورتحال کے جلد معمول پر آنے کے امکانات بھی غیر واضح ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی پانیوں میں جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں نے اس راستے کو اس قدر خطرناک بنا دیا ہے کہ بیشتر بحری ٹریفک تقریباً رک چکی ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنگ آبی راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل، قدرتی گیس اور زرعی کھاد کی ترسیل کا مرکزی ذریعہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب اس بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کا دعویٰ کیا ہے، تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کرنے اور تیل بردار جہازوں کو بحریہ کی سیکیورٹی فراہم کرنے جیسے اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔تاہم ایران اب بھی کئی حوالوں سے برتری رکھتا ہے، جس کی بڑی وجہ اس کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی اور جغرافیائی پوزیشن ہے۔

ایران کی جغرافیائی برتری کیوں اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اپنی تنگی کے باعث ایک خطرناک "چوک پوائنٹ” (Chokepoint) ہے، جہاں بحری جہازوں کے لیے متبادل راستہ موجود نہیں۔ اس کی چوڑائی بعض مقامات پر صرف 24 میل رہ جاتی ہے اور زیادہ تر جہاز مخصوص تنگ راستوں سے گزرتے ہیں۔ایسے میں ایران کو اپنے اہداف تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ باآسانی انتظار کر سکتا ہے، جس سے یہ علاقہ ایک ممکنہ "کل زون” میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں حملے کا وقت چند سیکنڈز تک محدود ہو سکتا ہے۔ایران کے پاس تقریباً ایک ہزار میل طویل ساحلی پٹی ہے، جہاں سے وہ اینٹی شپ میزائل، ڈرونز، بارودی سرنگیں اور چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے حملے کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے آبدوز بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکہ نے ایران کی روایتی بحری صلاحیت کو کسی حد تک کمزور کیا ہے، لیکن غیر روایتی ہتھیار اب بھی بڑا خطرہ ہیں، جن سے مکمل طور پر بچاؤ تقریباً ناممکن ہے۔

اب تک ایران کم از کم 19 جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ خطرات کے باعث بیشتر شپنگ کمپنیاں اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ کچھ جہاز، خاص طور پر ایران، چین، بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے، محدود تعداد میں گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ایران نے اعلان کیا ہے کہ "غیر دشمن” جہاز اس کی اجازت سے گزر سکتے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق چند جہازوں نے محفوظ گزر کے لیے بھاری فیس بھی ادا کی ہے۔عالمی بحری تنظیم کے مطابق تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور توانائی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھاتے ہوئے میرین یونٹس اور بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں، یہ پیش رفت ممکنہ زمینی کارروائیوں کی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دے رہی ہے، تاہم امریکی حکومت نے ایران میں براہ راست زمینی کارروائی کو فی الحال مسترد کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطرات کم نہیں ہوتے، عالمی بحری ٹریفک کی بحالی مشکل ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا معاشی اور جغرافیائی چیلنج بن چکی ہے۔

More posts