Baaghi TV


طالبان حکومت کا نیا فوجداری ضابطہ: خواتین اور بچوں پر مشروط جسمانی تشدد قانونی قرار

woman

‎افغانستان میں طالبان حکومت نے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری کے ساتھ ایک نیا فوجداری ضابطہ نافذ کر دیا ہے، جو مجموعی طور پر 90 صفحات پر مشتمل ہے۔
‎اس نئے قانون کے تحت 2009 میں سابقہ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قوانین منسوخ کر دیے گئے ہیں، اور خواتین اور بچوں پر مشروط گھریلو تشدد کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ طالبان حکومت کے ضابطے کے مطابق شوہر کو اپنی بیوی اور بچوں پر جسمانی تشدد کرنے کی اجازت حاصل ہے، بشرطیکہ تشدد کے نتیجے میں ہڈی نہ ٹوٹے یا کوئی کھلا زخم نہ آئے۔
‎قانون میں تشدد کی حد سے زیادہ ہونے کی صورت میں، اگر ہڈی ٹوٹ جائے یا فریکچر ہو تو شوہر کو زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ متاثرہ خاتون کو عدالت میں تشدد ثابت کرنے کے لیے اپنے زخم جج کے سامنے دکھانے ہوں گے، جبکہ یہ عمل مکمل پردے میں ہونا چاہیے اور عدالت میں شوہر یا کسی مرد سرپرست کی موجودگی لازمی ہے۔
‎مزید یہ کہ، اگر شادی شدہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں سے ملتی ہے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
‎نئے ضابطے کے آرٹیکل 9 کے مطابق افغان معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے: علماء، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ۔ اسی طرح ایک ہی جرم کی سزا ملزم کی سماجی حیثیت پر منحصر ہوگی، اور سنگین جرائم کی جسمانی سزائیں دینے کا اختیار اصلاحی اداروں کے بجائے مذہبی علماء کے پاس ہوگا۔

More posts