Baaghi TV

ٹیلی نار یوفون انضمام کے بعد سینکڑوں ملازمین کی برطرفی کا امکان

ufone

ٹیلی نار پاکستان اور پی ٹی سی ایل/یوفون کے انضمام کے بعد ہونے والی ورک فورس ری اسٹرکچرنگ (Workforce Restructuring) کے عمل کے تحت تقریباً 300 سے 500 ملازمین کو ملازمتوں سے کٹوتی کا سامنا ہے-

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیلی کام انضمام، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے یکجا ہونے کے بعد قائم ہونے والی نئی کمپنی ای اینڈ ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہو گئی ہے یہ فیصلہ دونوں کمپنیوں کے انضمام کے باعث پیدا ہونے والے اضافی (Duplicate) عہدوں کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے-

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجہ دونوں کمپنیوں کے انضمام کے بعد مختلف شعبوں میں ایک جیسے عہدوں کا پیدا ہونا ہےسیلز، مارکیٹنگ، فنانس، ایچ آر (HR)، ٹیکنالوجی اور ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں عہدوں کو ختم کر کے ملازمین کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔

ملازمین کی برطرفی سے قبل ان کی قابلیت اور کارکردگی جانچنے کے لیے اندرونی جائزے (Assessments) اور انٹرویوز منعقد کیے جا رہے ہیں رپورٹس کے مطابق اس بار متاثرہ ملازمین کو ماضی کے برعکس محدود یا کم مالی پیکجز ملنے کی توقع کی جا رہی ہے، انضمام کے بعد بننے والے نئے ادارے کو گلوبل برانڈ ای اینڈ("e&” )کے تحت چلایا جائے گا-

ذرائع کے مطابق ماضی کے ٹیلی کام انضمامات کے برعکس، متاثرہ ملازمین کو پرکشش رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے تحت بڑے مالی پیکجز ملنے کا امکان نہیں زیر غور معاوضہ صرف چند ماہ کی تنخواہ تک محدود ہے، جبکہ اس سے قبل وارد اور موبی لنک کے انضمام کے بعد بننے والی جاز میں ملازمین کو کہیں زیادہ مراعات دی گئی تھیں،انضمام سے قبل ٹیلی نار پاکستان میں تقریباً 800 ملازمین کام کر رہے تھے، جبکہ یوفون کے تقریباً 300 ملازمین کو پہلے ہی کمپنی کے ہیڈکوارٹر 345 منتقل کیا جا چکا ہے انضمام کے عمل کے ساتھ مزید تبادلوں کی بھی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انضمام کے بعد ملازمین کی مجموعی تعداد آپریشنل ضروریات سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے، جس کے باعث اندازہ ہے کہ کمپنی اپنے عملے میں تقریباً 300 سے 500 ملازمین کی کمی کر سکتی ہے تاکہ اسے پاکستان کی سب سے بڑی موبائل کمپنی جاز کے موجودہ تقریباً 1,100 ملازمین کے مساوی سطح پر لایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق تنظیمِ نو کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں سیلز کے ایک سینئر عہدیدار نے نئی کمپنی میں ایک عہدے کے لیے مقابلے میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع کے مطابق اس عہدے کے لیے ان سمیت ایک اور امیدوار نے انٹرویوز اور جانچ کے مرا حل مکمل کیے، تاہم یہ عہدہ خواجہ شہزاد اللہ کو دے دیا گیا، جس کے بعد ناکام امیدوار وقاص امان اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔

ادھر ملازمین میں ملازمت کے تحفظ کے حوالے سے بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے، ان کا خدشہ ہے کہ آئندہ ہفتوں میں بھی تنظیمِ نو کا عمل جاری رہے گا کیونکہ کمپنی اخراجات میں کمی، دہرے عہدوں کے خاتمے اور آپریشنل استعداد بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

More posts