امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشگی وارننگ کے بعد ایران پر ایک مرتبہ پھر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ ( نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں تصدیق کی کہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر کیے جا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر بندر عباس اور سیریک میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق بندر عباس کے قریب فضائی دفاعی نظام نے "دشمن کے اہداف” کا مقابلہ کیا، تاہم حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ دونوں علاقے گزشتہ رات بھی امریکی حملوں کا نشانہ بنے تھے۔گزشتہ رات 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا،امریکی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب ہونے والی کارروائی میں 80 سے زائد اہداف کو انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔حملوں میں جن اہم اہداف کو تباہ کیا گیا ان میں ایران کے فضائی دفاعی نظام،ساحلی ریڈار تنصیبات،اینٹی شپ میزائل صلاحیتیں،پاسداران انقلاب (IRGC) کی 60 سے زائد تیز رفتار کشتیاں
شامل تھیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے اس ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جن میں مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار ایم/ٹی ال رکیت (M/T Al Rekayyat)،سعودی عرب کے پرچم بردار ایم/ٹی ویدیان (M/T Wedyan)،لائبیریا کے پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پراسپیریٹی (M/T Cyprus Prosperity)شامل ہیں۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ انہی حملوں کے بعد ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ ترکی میں جاری نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ اگر ایران نے اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو امریکہ دوبارہ حملے کرے گا۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ بین الاقوامی بحری راستوں پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور ایران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔
ایران اور قطر کے درمیان سفارتی رابطہ
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں مزید کشیدگی روکنے، سفارتی ذرائع کو فعال رکھنے اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔قطر اس معاملے میں ثالثی کی کوشش کرنے والا دوسرا اہم ملک بن گیا ہے، جبکہ اس سے قبل پاکستان بھی دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اپیل کر چکا ہے۔
