Baaghi TV

افلاس کا کرب ،تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

یہ خدا کی منشا ہے کہ اس نے کائنات کا سارا نظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔دنیا میں سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں۔اس لیے خدا کی واحدنیت اور لاثانیت کا اقرار کرنا ہر متنفس پر فرض ہے۔اگر دنیا کے معاشی حالات کا تجزیہ کیا جائے ۔تو ہر ملک کی صورت حال ایک دوسرے سے فرق ہے۔

اسی طرح انسانوں کی بھی معاشی صورت حال ایک جیسی نہیں ہے۔دنیا میں کہیں کوئی امیر ہے اور کہیں کوئی غریب ہے۔البتہ افلاس کا کرب وہی جانتا ہے جو غربت کی چکی میں پستا ہے۔اسے اپنے حالات کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور دیگر معاملات کا بھی۔بہت حد تک اسے اپنی بے بسی کا بھی پتہ ہوتا ہے اور اسے اپنے ساتھ دوسروں کے رویوں کا بھی علم ہوتا ہے۔یہ سب باتیں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو رہی ہیں۔
کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ دنیا میں یہ دراڑیں اور فاصلے کیوں ہیں؟
کیا سب انسان ایک جیسے نہیں ہیں؟ کیا سب کو اس نے اپنی صورت پر پیدا نہیں کیا ؟ مذکورہ شواہد کے باوجود بھی ہماری سوچ اور حالت زار غیر تسلی بخش نظر آتی ہے۔شاید دنیا ایک ایسی جگہ ہے ، جہاں نسلی امتیاز ، مذہبی تفریق ، انتہا پسندی ، دہشت گردی ، خون خرابہ ، نفرت و فرق ہمارے رویوں کے ساتھ نتھی ہو گئے ہیں ۔اب دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں ۔قریبا قریبا یہ لعنتیں اور نحوستیں انسان کے ساتھ پیوست نظر آئیں گی۔

غریب ہمیشہ عذر پیش کرتا ہے جب کہ امیر دوسروں پر اپنی حاکمیت مسلط کرتا ہے ۔شاید وہ سوچنے سے قاصر ہے کہ ایک غریب پر ظلم وستم کی کون سی داستانیں نقصان پہنچاتی ہیں ۔وہ کس کس کرب سے گزر کر اپنا وقت پورا کرتا ہے؟ کبھی وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اور کبھی اس کے چہرے پر ندامت کی سلوٹیں پڑ جاتی ہیں۔وہ اپنی سفید پوشی میں گم سم رہتا ہے ۔یہ دنیا کا وطیرہ ہے۔ایسے لوگ عموما غریبوں کی کمزوریاں کے ساتھ معاشی کھیل کھیلتے ہیں ۔کبھی اسے کم اجرت دی ، کبھی اس کے خاندان پر ہاتھ ڈالا ، کبھی اسے احسانات کے قرض جتائے ، کبھی اسے غربت کے کنویں میں پھینک دیا ، کبھی اسے جہالت کے طعنے دیے ، کبھی اس کی سوچ کو مفلوج قرار دیا ۔یہ ہماری سوچ کا ترازو ہے جس میں ہم غریب کو رکھ کر اس کا وصف و وزن معلوم کرتے ہیں۔
کیا کبھی کسی نے اپنے ذہن کے بند کھڑکیوں کو کھول کر اس بات کو سوچا ہے؟ کیا اس کا جنم اپنے ہاتھ میں ہے ؟

ہمیں تو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ خدا ہمارا جنم کس خاندان، قبیلے ،گروہ ، قوم اور نسل میں کردے ۔کسی کی آنکھ تو محلوں میں کھلتی ہے اور کسی کے نصیب جھونپڑی کا سایہ آتا ہے ۔
یہ تضاد و تعارض کی دنیا ہے ۔کسی جگہ بہار کے چرچے ہیں تو کسی جگہ خزاں کی آمد ہے ۔نہ موسم ایک جیسے، نہ حالات ایک جیسے ، نہ سوچ ایک جیسی ، کہیں شعور کا بول بالا ہے تو کہیں جہالت کے کھڈے ۔
غریب ہمیشہ دوسروں کی شان و شوکت کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے ۔وہ بڑی بے درد ناک آہو ں اور اشکوں کے ساتھ خدا کے سامنے اپنی قسمت کا حال دریافت کرتا ہے۔تنہائی میں اپنی بے بسی کے آنسو بہاتا ہے ۔اسے وراثت میں دکھ و غم مل جاتے ہیں ۔

وہ حالات سدھار کا خواب پورا کرتے کرتے بڑھاپے کی سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔لیکن نہ اس کے حالات ٹھیک ہوتے ہیں اور نہ اسے منزل ملتی ہے ۔وہ اپنا سفر ایک بھٹکے مسافر کی طرح گزارتا ہے۔ آئے دن اس کی معاشی مجبوریاں اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں ۔اس کے حالات دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے اس نے غربت کی کئی جنگیں لڑی ہیں ۔اس نے اپنے ہاتھ کی ریکھاؤں میں محنت کے خواب دیکھے ہوتے ہیں۔

اس لئے وہ غربت کو اپنی عزت ، محنت کو عظمت ، زندگی کو قربانی سمجھ کر اپنا وقت گزارتا ہے۔جواں مردی اور محنت بڑھاپے تک اس کے دوست بن کر سہارا دیتے ہیں ۔وہ سنگین حالات میں بھی شکر گزاری کے نذرانے پیش کرتا ہے ۔اخلاقی قدروں کا بھی پابند ہوتا ہے ، دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہے ۔
میل جول کا بھی شیدائی ہوتا ہے ، صاف گو اور وعدوں کا پکا ہوتا ہے ۔اس نے اعتماد کے کیپسول بھی کھائے ہوتے ہیں جس کے مضر اثرات بہت جلد دھوکوں کی صورت میں اس کے سامنے آتے ہیں ۔وہ زندگی بھر افلاس کی صلیب اٹھاتا ہے ۔اس کے ہاتھ اور پاؤں میں محنت کی چنڈیاں اور چھالے پڑ جاتے ہیں ۔اس کے کندھوں پر محنت کے زخم نظر آتے ہیں اور آنکھوں میں بے بسی کی تصویر دکھائی دیتی ہے ہے۔
اس نے شکوہ بھی اپنے ہم عصروں سے کرنا ہوتا ہے ۔نہ اس کی زبان پر بڑا بول اور نہ اس کی نیت میں فتور ہوتا ہے ۔اس کا جی احساس کے رچاؤ سے بھرا ہوتا ہے ۔

یقینا غربت کی کوکھ سے برائیاں جنم لیتی ہیں ۔انھیں ختم کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا ۔اسے خوشی اور تحفظ فراہم کرنا ہوگا ۔اسے فکری معاش سے نکالنا ہوگا ۔اس کے کرب کو محسوس کرنا ہوگا ۔اس کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا ۔شاید کل دو ہاتھ مل کر افلاس کی سلاخیں توڑ سکیں ۔آئیں اپنے ارادوں کو جذبات کی گرمائش دے کر تبدیلی کی طرف قدم بڑھائیں ۔

More posts