اسلام آباد: پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً ساڑھے 7 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت نے متاثرہ بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے معاونت طلب کر لی ہے۔
وفاقی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایچ آئی وی کے زیرِ علاج 62 ہزار مریضوں میں بچوں کا تناسب تقریباً 12 فیصد ہے، جب کہ سندھ بچوں میں ایچ آئی وی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ بن گیا ہے، جہاں تقریباً 4 ہزار 200 بچے رجسٹرڈ ہیں۔بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)، عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور نیوٹریشن انٹرنیشنل سے غذائی معاونت کی درخواست کی ہے تاکہ متاثرہ بچوں کو بہتر علاج اور مناسب خوراک فراہم کی جا سکے۔حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ اور شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کو خصوصی غذائی سپلیمنٹس، متوازن خوراک اور مسلسل طبی نگرانی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ والدین اور تیمارداروں کو بچوں کی غذائی ضروریات اور دیکھ بھال سے متعلق آگاہی بھی دی جائے گی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو عام بچوں کے مقابلے میں 10 سے 20 فیصد زیادہ توانائی اور پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ مناسب غذائیت فراہم کرنے سے ان کے علاج کے نتائج میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب کراچی کے لانڈھی اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات کے لیے بھی ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو کیسز کی وجوہات اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے گی۔
