امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی 35 سالہ ذاتی معاونہ نٹالی ہارپ کے درمیان قربت ایک بار پھر امریکی سیاست میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر جان اوسوف نے جارجیا میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ کے ہارپ کے ساتھ قریبی تعلق پر طنز کرتے ہوئے ان پر تنقید کی۔
اوسوف نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ صدارتی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے گالف کھیلنے اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے قطر سے منسوب طیارے کا حوالہ دیتے ہوئے نٹالی ہارپ کے ساتھ ان کے سفر پر بھی طنزیہ تبصرہ کیا۔ٹرمپ سے جب ہارپ سے متعلق اوسوف کے بیان پر ردعمل پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی معاونہ کے بارے میں جواب دینے کے بجائے گفتگو کا رخ تبدیل کردیا۔
نٹالی ہارپ کو ٹرمپ کے قریبی ترین معاونین میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں بعض ذرائع نے صدر اور ان کے عملے کے درمیان ’’رابطے کی اہم کڑی‘‘ قرار دیا ہے۔ وہ صدر کے لیے اخبارات، مضامین اور سوشل میڈیا پوسٹس کے پرنٹ نکال کر پیش کرنے کے باعث ’’ہیومن پرنٹر‘‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران ٹرمپ کو مبینہ طور پر ان کے طیارے کو میزائل حملے کے خطرے سے متعلق انٹیلی جنس موصول ہوئی، جس کے بعد انہیں ایک متبادل فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر نٹالی ہارپ بھی صدر کے ساتھ موجود چند منتخب معاونین میں شامل تھیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے صدر کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران عوامی تقریبات میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم شرکت کی ہے۔ بعض اہم سرکاری تقریبات میں ان کی عدم شرکت بھی توجہ کا مرکز بنی۔نیویارک ٹائمز کے صحافی میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی کتاب Regime Change میں بھی ہارپ کی صدر ٹرمپ سے قربت کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ ہارپ نے ٹرمپ کی نجی جگہوں پر ذاتی نوعیت کے نوٹس بھی چھوڑے، جن میں سے ایک میں مبینہ طور پر ان کے لیے غیر معمولی جذبات کا اظہار کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ان نوٹس نے مبینہ طور پر سیکیورٹی حکام کی توجہ حاصل کی اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کو بھی اس معاملے پر حیرت ہوئی۔
تاہم ٹرمپ اور ہارپ کے تعلق سے متعلق سامنے آنے والی ان اطلاعات میں کسی رومانوی تعلق کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کی جانب سے بھی ہارپ کے ساتھ کسی غیر معمولی ذاتی تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔
