Baaghi TV

ٹرمپ نے خود کو مزید وقت دے دیا، ایران سے مذاکرات کے دعووں پر سوالات

واشنگٹن: دفاعی تجزیہ کار پروفیسر مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے معاملے پر وقتی طور پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے خود کو مزید وقت دے دیا ہے، تاہم ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعووں پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔

پروفیسر کلارک کے مطابق یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ٹرمپ کسی حد تک پیچھے ہٹیں گے، لیکن اتنی جلدی فیصلہ حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ فوجی کارروائی کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ پانچ دنوں میں یہ آپشن اب بھی موجود ہے۔کلارک نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اچانک ایران کے ساتھ "تعمیری اور بامعنی مذاکرات” کا ذکر کیا، جن کے بارے میں پہلے کسی کو علم نہیں تھا۔”انہوں نے اس سے پہلے کبھی ان مذاکرات کا ذکر نہیں کیا، اچانک کہا جا رہا ہے کہ گہرے مذاکرات جاری تھے، ممکن ہے اس معاملے میں مبالغہ آرائی کی جا رہی ہو،” انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ٹرمپ نے ممکنہ حملوں کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے وقتی طور پر قدم پیچھے کھینچا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشی ماہر ایڈ کانوے کے مطابق ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ "یہ ایک غیر معمولی معاشی جھٹکا ہے، جہاں مارکیٹوں نے اچانک مثبت ردعمل دیا ہے اور امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔”کانوے کے مطابق تیل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ بانڈز کی ییلڈ میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی کئی اہم سوالات باقی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

More posts