اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) جمعیت علمائے اسلام (پنجاب) کے قائم مقام امیر مولانا محمد صفی اللہ نے کہا ہے کہ نام نہاد بورڈ آف پیس کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کے سپرد ہونا اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی بطور رکن شمولیت عالمی امن کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مدرسہ امیر المدارس اوچ شریف میں ضلعی جنرل سیکریٹری قاری سیف الرحمن راشدی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر قاری محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ امیر المدارس اوچ شریف، تحصیل جنرل سیکریٹری قاضی محمد عمر فاروق فاروقی، جنرل سیکریٹری حلقہ پی پی 250 مولانا بابر علی صدیقی اور سیکریٹری اطلاعات اوچ شریف مولانا سمیع اللہ عثمانی بھی موجود تھے۔
مولانا محمد صفی اللہ نے کہا کہ دنیا بھر میں امن کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے افراد کی قیادت میں قائم اداروں سے حقیقی امن کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی اور سفارتی ریکارڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی پالیسیاں ہمیشہ یکطرفہ فیصلوں، طاقت کے استعمال اور مخصوص عالمی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار غیرجانبداری، انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر منافی رہا ہے، جبکہ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل پر غزہ اور فلسطینی عوام کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکے ہیں۔
مولانا محمد صفی اللہ کا کہنا تھا کہ ایسے متنازع کرداروں پر مشتمل کوئی بھی نام نہاد ’’امن بورڈ‘‘ درحقیقت امن کے قیام کے بجائے طاقتور فریق کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی اور پائیدار امن انصاف، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مظلوم اقوام کے بنیادی حقوق تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ عالمی امن کے نام پر قائم کیے جانے والے اداروں کو غیرجانبدار، باکردار اور قابلِ اعتماد قیادت کی اشد ضرورت ہے، نہ کہ ایسے افراد کی جو خود تنازعات، جنگوں اور مظالم کا حصہ رہے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو نمائشی امن کے نعروں کے بجائے انصاف پر مبنی عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔