Baaghi TV

امید سے منزل تک ،تحریر: ماہ جبین اظہر

نورِ عزم فلاحی ادارے کے باہر کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ اگر انسان کو ہمت، حوصلہ، جنون اور تکلیفوں کو سہنے کی طاقت مل جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت آنکھوں کو خواب دیکھنے اور ان خوابوں کی تعبیر پانے سے نہیں روک سکتی۔

یہی خواب جو وہ برسوں سے دیکھ رہی تھی، آج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا۔

ایک ایسا ادارہ جہاں وہ عورتیں آتی تھیں جو سسرال اور شوہر کے ظلم و ستم سہہ کر بے چارہ اور بے سہارا ہو گئی تھیں۔ اس ادارے میں وہ ان عورتوں کو روزگار بھی فراہم کرتی، انہیں سہارا بھی دیتی اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی دیتی۔ وہاں وہ بچے بھی پرورش پاتے تھے جو یتیم اور بے سہارا تھے۔

ماہ نور جیسا خوب صورت نام…

اپنے نام کی طرح روشن، بڑی بڑی آنکھوں والی۔ ایسی آنکھیں جو دنیا کو فتح کرنے کا حوصلہ رکھتی تھیں۔ مگر جن ماں باپ کے نصیب میں وہ آئی تھی، وہ ان روشن اور گہری آنکھوں میں پلنے والے خواب پورے نہ کر سکے۔

ان آنکھوں نے بچپن ہی سے بہت سے خواب دیکھ رکھے تھے۔

اس کی ماں معمولی حیثیت کے گھر سے بیاہ کر اس کے باپ کی زندگی میں آئی تھی اور ایک اونچے معیار کی زندگی رکھنے والے شخص کی بیوی کا درجہ پا لیا تھا۔ اس کا باپ کسی حسین ریاست کے شہزادے کی طرح اپنی زندگی کے لیے اپنے معیار جیسی شریکِ حیات کا خواہاں تھا۔

رنگ، حیثیت اور پسند کے اس فرق نے ماں باپ کے درمیان بہت دوریاں پیدا کر دیں۔

باپ اپنے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی دنیا میں مصروف رہا اور بیوی کو اپنی ماں اور ظالم بہنوں کے سہارے تنہا چھوڑ گیا۔

ماں کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا، سوائے ایک بوڑھی ماں کے، جو بس اپنی بیٹی کو دیکھنے اور اس کے انتظار میں جیتی تھی۔ جیسے ہی ماں بیاہ کر باپ کے آنگن میں اتری، نانی نے بھی کچھ عرصے بعد آنکھیں بند کر لیں۔

اوپر تلے کی محرومیوں اور گھر کے حالات نے ماہ نور کو ایک دم سے اپنی عمر سے بڑا کر دیا۔

ماں باپ کی لڑائیاں، اپنے باپ کی بے رخی، دادی اور پھوپھیوں کے رویے اسے اپنے ہی گھر سے اتنا متنفر کر دیتے کہ وہ ان رشتوں کی محبت دوسرے لوگوں میں تلاش کرنے لگی۔

کبھی اسکول میں کسی لڑکی کی ماں میں اسے اپنی ماں کی محبت نظر آتی تو کبھی کسی استانی میں اپنی بہن جیسی شفقت۔

جب وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کو تیار تھی تو اس کی آنکھوں نے وکیل بننے کے خواب بُننا شروع کر دیے۔

وہ خواب جو اسے اس دنیا سے دور لے جاتے تھے، جہاں اس کا اپنا سکون ہوتا، اس کی اپنی پسند کی دنیا ہوتی۔ ایسی دنیا جہاں کوئی اسے نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھتا، جہاں کوئی اسے اپنے باپ کے قریب جانے سے نہ دھتکارتا۔

اسے اچھی طرح یاد تھا کہ جب اس کا باپ پردیس سے سامان کے ساتھ واپس لوٹتا تو اس کے اردگرد دادی اور اس کی بیٹیاں ہوتی تھیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے ڈبوں سے نکلنے والی ہر چیز کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی کہ شاید اب آواز آئے گی کہ یہ چیز ماہ نور کے لیے ہے۔

لیکن دادی کی نفرت بھری نظروں کے سوا اس کے حصے میں کچھ نہ آتا۔

اور وہ رات کو جب سونے کے لیے لیٹتی تو دور آسمان میں تنہا چاند کو دیکھتی اور سوچتی کہ علم حاصل کر کے اور وکیل بن کر وہ ان لڑکیوں کے لیے آواز اٹھائے گی جو سسرال والوں اور حالات کے ظلم سہہ کر اپنی آواز فراموش کر دیتی ہیں۔

وہ روز اسکول میں محنت کرتی اور ایک عزم لے کر اسکول سے واپس آتی۔ ہر کلاس میں حاصل کی گئی پوزیشن اس کے ارادوں کو اور مضبوط کرتی اور وہ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ طاقت ور محسوس کرنے لگتی۔

لیکن جیسے ہی اس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا، اس کے باپ نے اسے آگے پڑھانے سے انکار کر دیا۔

اس نے ماں سے کہا کہ کوئی لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کر دو۔

یہ سن کر ماہ نور بہت روئی۔

اسے لگا جیسے کسی نے اس کے خوابوں کی دنیا اس سے چھین لی ہو۔

وہ خواب جن کے سہارے وہ اپنے آپ کو ایک منزل کے قریب محسوس کرتی تھی، اچانک اس سے بہت دور ہو گئے۔

اور پھر اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کر دی گئی جو اس کی عمر سے کافی بڑا تھا۔

سسرال والے اس کی دادی اور پھوپھیوں سے بھی زیادہ ظالم تھے۔

لیکن اس کا شوہر ایک نرم دل اور رحم دل انسان تھا۔

وہ عمر میں اس سے بڑا ضرور تھا، مگر اس نے ماہ نور کو ایک گڑیا کی طرح سنبھال کر رکھا۔

وہ اپنے ماں باپ کا بھی بہت فرمانبردار تھا۔ ان کے آگے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا، ان کے خلاف کچھ کہنے کی ہمت نہیں کرتا تھا، لیکن رات کو ماہ نور کے زخموں پر ضرور مرہم رکھتا تھا۔

اور وہی تھا جس نے ماہ نور کے خوابوں کو دوبارہ تعبیر تک پہنچانے کے لیے ہر طرح سے اس کا ساتھ دیا۔

اس نے اس کا انٹر کا امتحان دلوایا۔

اور پھر وکالت کی تعلیم کے لیے بھی اس کا ساتھ دیا۔

جب اس کے بچے پیدا ہوئے تو ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔ حالات نے اس پر آزمائشیں کم نہیں کیں، مگر اس کے شوہر نے اس کا ساتھ نہ چھوڑا۔

اور پھر ایک دن آیا…

وہ دن جس کا خواب ماہ نور نے اپنی بچپن کی آنکھوں میں برسوں پہلے دیکھا تھا۔

وہ وکیل بن چکی تھی۔

وہ اپنے جیسے حالات سے گزرنے والی عورتوں کے سامنے کھڑی ہوئی اور ان کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔

آخرکار ایک دن وہ اپنے شوہر کو لے کر ایک الگ، چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئی۔

اور پھر وہاں اس نے اپنی وکالت کا آغاز کیا۔

آہستہ آہستہ اس نے ایک ایسا ادارہ بنا ڈالا جہاں وہ بے سہارا عورتوں اور یتیم بچوں کو سہارا دیتی تھی۔

یہ ادارہ اس کے خواب کی تعبیر تھا۔

اور پھر ایک دن، جب وہ اس کی افتتاحی تقریب میں شامل تھی، لوگوں نے اس سے پوچھا:

"آپ نے اس فلاحی ادارے کا نام نورِ عزم کیوں رکھا ہے؟”

ماہ نور نے مسکرا کر جواب دیا:

"یہ ایک ایسا نور تھا جو میری آنکھوں میں روشنی پیدا کر دیتا تھا، اور وہ عزم تھا جو میرے خوابوں کی تعبیر مجھے پرعزم بنا دیتا تھا۔”

اس نے ایک لمحے کے لیے سامنے موجود عورتوں اور لڑکیوں کو دیکھا۔

پھر کہا:

"اس لیے میں نے نور اور عزم کو ملا کر اپنے اس فلاحی ادارے کا نام نورِ عزم رکھا۔”

اور پھر اس نے وہاں موجود تمام لڑکیوں کو صرف ایک پیغام دیا:

"اگر آپ ہمت اور حوصلے کا ساتھ نہ چھوڑیں تو ہر خواب کی تعبیر پا سکتی ہیں۔ بس آپ کو استقامت کے ساتھ آگے بڑھنے اور اپنے حق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔”

ماہ نور نے سامنے موجود چہروں کو دیکھا۔

ان میں اسے اپنا بچپن نظر آیا۔

وہی خوف۔

وہی محرومیاں۔

وہی خواب۔

مگر اب اسے یقین تھا کہ خوابوں کا راستہ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، اگر دل میں امید اور قدموں میں عزم ہو تو انسان ایک دن ضرور پہنچتا ہے۔

امید سے منزل تک۔

More posts